جائے اوروہ اچھی خوشبو کے ساتھ مشہور ہو جائے یا وہ غیر محرم عورتوں کے دلوں میں محبوب (ہیرو)بن جائے' اسکے علاوہ بھی بے شمار امور ہیں اور ان تمام باتوں میں نِیّت کی خرابی کی وجہ سے خوشبو لگانے والا گناہ گار ہوتا ہے اور یہی وہ صورتیں ہیں جنکی وجہ سے قیامت کے دن اسکی بدبو مردار سے بھی زیادہ ہوگی ۔البتہ پہلا ارادہ یعنی نفس کا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونا گناہ تو نہیں لیکن اسکے بارے میں سوال ضرور ہوگا۔ اور جس بندے سے سوال اور حساب و کتاب میں سختی ہو وہ برباد ہو گیا۔
اور جو آدمی دنیا میں مباح چیزوں کو استعمال کرتا ہے اگر چہ قیامت میں اسے عذاب نہیں ہوگا لیکن اسی حساب سے اسکی اُخروی نعمتیں کم کر دی جائیں گی۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غور کا مقام ہے اور کتنے بڑے نقصان کی بات ہے کہ آدمی فانی نعمتوں کے حصول میں جلد بازی کرے اور اُخروی نعمتوں کو ان پر قربان کر دے ۔ البتہ خوشبو لگانے میں اچھی نِیّتیں بھی کی جاسکتی ہیں۔
مثلا
(۱) جمعہ کے دن خوشبو لگانا پیارے آقا ، سرکار مدینہ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی سنت مبارکہ ہے اسی لئے خوشبو لگائے۔
(۲) مسجد اللہ (عزوجل) کا گھر ہے اور مسجد کی تعظیم اللہ تعالیٰ کی تعظیم ہے چنانچہ اگر خوشبو اس لئے لگائی کہ مسجد کا احترام پیش نظر ہے نیز کیونکہ یہ
شخص اللہ (عزوجل)کی زیارت کیلئے جارہا ہے اللہ تبار ک و تعالیٰ کے احترام میں خوشبو لگائی یا۔
(۳) مسلمانوں اور اپنے ساتھ بیٹھنے والوں کو راحت پہنچانے کیلئے خوشبو لگائی تاکہ وہ سکون کے ساتھ عبادت الٰہی (عزوجل) میں مصروف رہ
سکیں۔
(۴) یا اس لئے خوشبو لگائی کہ لوگ اسکی غیبت سے بچیں کیونکہ بدبودار شخص کے پیٹھ پیچھے اسکی برائی کاتذکرہ ضرور کیاجاتا ہے اور یوں مسلمان
غیبت کا شکار ہو جاتے ہیں۔کیونکہ جو شخص دوسروں کو گناہ سے بچانے پر قادر ہو لیکن نہ بچائے تو گناہ میں برابر کا شریک مانا جائے گا ۔
چنانچہ منقول ہے کہ: