ترجمہ کنزالایمان ''اور غصہ پینے والے''
(پارہ نمبر۴' سوره آل عمران آیت ۱۳۴)
یہ نہیں فرمایا کہ وہ لوگ جنہیں غصہ بالکل نہیں آتا۔ اس لئے کہ عادت یہ نہیں کہ انسان زخمی ہو اور درد نہ ہو بلکہ عادت یہ ہے کہ وہ اس پر صبر کرے اور برداشت کرے' تو جس طرح زخم کی وجہ سے درد کا پایا جانا بدن کا طبعی تقاضا ہے اسی طرح غضب کے اسباب پر دُکھ محسوس کرنا قلبی طبیعت کا تقاضا ہے اور اسے نکال باہر کرنا ممکن نہیں البتہ اسے ضبط کرنا اور اس کے خلاف عمل کرنا ممکن ہے کیونکہ غصے کا تقاضا دوسرے سے بدلہ اور انتقام لینا ہے اور اس تقاضا کے خلاف عمل کرنا ممکن ہے کسی شاعر نے کہا ہے۔
تو اپنے بھائی پر زیادہ مہربانی نہیں کر سکتا تو کم از کم اس کے فسادِ حال پر ملامت نہ کر ورنہ کامل مہذب آدمی تجھے کہاں ملے گا ؟
حضرت سیدنا ابو سلیمان دارانیص نے حضرت سیدنا احمد بن ابی الحواریص سے فرمایا ''جب تم اس زمانے میں کسی سے بھائی چارہ قائم کرو تو جو بات تمہیں ناپسند ہو اس پر اسے مت جھڑکو کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اب کی بار اس کے جواب میں پہلی بات سے بھی بری بات سنو۔ ''
ان میں سے بعض نے کہا کہ دوست کی غلطی پر صبر کرنا اسے عتاب کرنے سے بہتر ہے اور عتاب کرنا تعلق ختم کرنے سے بہتر ہے اور تعلق منقطع کرنا اس کی غیبت کرنے سے بہتر ہے۔
اور ارشاد خداوندی (عزوجل) ہے۔