جس کے سامنے غصے کی بات ہو اور اسے غصہ نہ آئے تو وہ گدھا ہے اور جسے راضی کیا جائے اور وہ راضی نہ ہو وہ شیطان ہے لہٰذا نہ تو تم گدھے بنو اور نہ ہی شیطان' اور اپنے بھائی کے نائب بن کر اپنے دل کو راضی کرو عدمِ قبولیت کی وجہ سے شیطان بننے سے بچو۔
حضرت سیدنا احنف (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں۔
دوست کا حق ہے کہ اس سے تین باتیں برداشت کرو۔ (۱) غصہ کا ظلم' (۲) ناز نخرے کا ظلم' (۳) لغزش کا ظلم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دوسرے بزرگ رحمہ اﷲ نے فرمایا کہ میں نے کبھی کسی کو گالی نہیں دی کیونکہ اگر کسی معزز آدمی نے مجھے برا بھلا کہا تو مجھے چاہیئے کہ اسے معاف کردوں اور اگر کوئی کمینہ گالی دے تو میں اپنی عزت کو اس کا نشانہ بنانا نہیں چاہتا پھر انہوں نے شعر پڑھا۔
معزز آدمی کی خطا معاف کرتا ہوں تاکہ اجر ملے اور کمینوں کی غلطی سے اپنی عزت بچانے کے لئے درگزر کرتا ہوں۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے :
اپنے دوست کی اچھی باتوں کو قبول کرو اور اس میں جو خرابی ہے اسے چھوڑ دو کیونکہ زندگی اس لئے نہیں ہے کہ دوستوں کو دوسری باتوں پر ملامت کرتے رہو تمہارا دوست سچا ہو یا جھوٹا جب عذر پیش کرے تو معاف کردو کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔