| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
''اﷲ (عزوجل) کے بندوں میں سے برے بندے وہ ہیں جو چغلی کھاتے ہیں اور دوستوں کے درمیان تفریق ڈالتے ہیں''(مسند امام احمد بن جنبل جلد ۴ ص ۲۲۷ مرویات عبد الرحمن بن غنم) بعض اسلاف (رضی اﷲ تعالیٰ عنہم) نے دوستوں کی لغزشوں پر پردہ ڈالنے کے بارے میں یوں فرمایا کہ شیطان چاہتا ہے کہ وہ تمہارے بھائی سے اس قسم کی حرکت کروائے تاکہ تم اسے چھوڑ دو اور اس سے قطع تعلق کرو۔ تو تم نے اپنے دشمن شیطان کی آرزو پوری کر دی اس لئے کہ د وستوں کے درمیان تفریق شیطان کو پسند ہے جیسے ارتکاب گناہ اسے پسند ہے تو جب شیطان کو ایک مقصد حاصل ہوگیا تو اسے دوسرا مقصد نہیں ملنا چاہئے۔ جب ایک شخص نے گناہ کیا اور دوسرے نے اسے گالی دی تو نبی ا نے فرمایا رک جاؤ۔ اور آپ نے اسے جھڑک دیا تو اس میں آپ نے اسی بات کی طرف اشارہ فرمایا تھا۔ اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
لاَتَکُوْنُوْا عَوْناً لِلشِّیْطَانِ عَلَی اَخِیْکُمْ ۔
''اپنے بھائی کے خلاف شیطان کے مدد گار نہ بنو'' (صحیح بخاری جلد ۲ ص ۱۰۰۲ کتاب الحدود) میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اس تمام گفتگو سے ابتدائے اخوت اور اسے برقرار رکھنے میں فرق واضح ہوگیا کیونکہ فاسق لوگوں سے میل جول ممنوع ہے اور دوست واحباب سے علیحدگی اختیار کرنا بھی منع ہے اور جہاں دو صورتیں ٹکراتی نہ ہوں وہ تعارض والی صورت سے بہتر ہے اور ہمارے خیال میں (شروع میں) دوستی نہ لگانا اور دور رہنا ہی بہتر ہے اور دوستی لگانے کے بعد اسے باقی رکھنے کے سلسلے میں دو صورتیں باہم مقابل ہیں تو اب حق اخوت کو باقی رکھنا زیادہ بہتر ہے اور یہ سب کچھ اس وقت ہے جب اس میں دینی اعتبار سے لغزش پائی جائے۔ دنیاوی خرابیاں : میٹھے میٹھے اسلامی بھائيو ! وہ خطائیں جو خاص دوست کے حق میں ہوں اور باعثِ نفرت ہوں تو اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ معاف کردینا اور برداشت کرنا اولیٰ ہے بلکہ اس کی کوئی اچھی توجیہ ہوسکے اور قریب یا بعید کا عذر مقصود ہوسکے تو حق اخوت کے تقاضے کے مطابق اس پر محمول کرنا واجب ہے۔ کہا گیا ہے کہ اپنے بھائی کی لغزش کے ستر عذر تلاش کرو پھر بھی دل نہ مانے تو اپنے نفس کو ملامت کرو اور اپنے دل سے کہو کہ تم کس قدر سخت ہو تمہارے بھائی نے ستر عذر پیش کئے اور تم قبول نہیں کرتے لہٰذا عیب تمہارے اندر ہے تمہارے بھائی میں نہیں۔ اور اگر کسی طرح اس کی کوئی اچھی وجہ قبول نہ ہو تو اگر ممکن ہو تو اس پر غصہ نہ کرو لیکن یہ ممکن نہیں حضرت سیدنا امام شافعی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں۔