| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
یہ نہیں فرمایا کہ میں تم سے بیزار ہوں کیونکہ آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے حق قرابت اور سلسلہ نسب کا لحاظ رکھا حضرت ابو الدرداء (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ اپنے فلاں بھائی سے نفرت نہیں کرتے حالانکہ اس نے فلاں کام کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں اس کے کام سے نفرت کرتا ہوں ورنہ وہ میرا بھائی ہے اور دینی اخوت' نسبی اخوت سے زیادہ تاکید والی ہے' یہی وجہ ہے کہ جب کسی حکیم سے سوال کیا گیا کہ تمہارے بھائی اور دوست میں سے کون تمہیں زیادہ محبوب ہے؟ اس نے کہا میں اپنے بھائی سے اس وقت زیادہ محبت کرتا ہوں جب وہ میرا دوست ہو۔
دوستی قرابت کی محتاج نہیں :
حضرت سیدنا حسن بصری (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے تھے تمہارے کتنے ہی بھائی ایسے ہیں جنہیں تمہاری ماں نے نہیں جنا۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ قرابت' دوستی کی محتاج ہے' دوستی قرابت کی محتاج نہیں۔ حضرت سیدنا امام جعفر صادق (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے فرمایا'' ایک دن کی دوستی صلہ ہے' ایک مہینے کی دوستی قرابت اور ایک سال کی دوستی' قریب کی قرابت ہے جو اسے توڑے گا اﷲ (عزوجل) اسے توڑے گا۔'' لہٰذا جب بھائی چارہ قائم کیا گیا ہو تو اسے پورا کرنا واجب ہے' ابتدائً فاسق کے ساتھ عقدِ مواخات قائم کرنے کے سلسلے میں ہمارا یہ جواب ہے کیونکہ اس کے لئے پہلے سے کوئی حق موجود نہیں اور اگر پہلے سے حق قرابت ہو تو اسے قطع کرنا قطعاً مناسب نہیں بلکہ اچھی طرح پیش آنا چاہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ ابتدائً بھائی چارہ اور صحبت چھوڑ دینا نہ تو مکروہ ہے اور نہ ہی مذموم' بلکہ کہنے والوں نے یوں کہا کہ تنہائی بہتر ہے لیکن ہمیشہ کے لئے اخوت کو قطع کرنا ممنوع اور ذاتی طور پر مذموم ہے اور ابتدائی طور پر اسے ترک کرنے کی طرف نسبت اسی طرح ہے جس طرح طلاق کو ترکِ نکاح سے نسبت ہے اور ترک نکاح کے مقابلے طلاق اﷲ (عزوجل) کے ہاں نہایت ناپسندیدہ ہے۔ میٹھے میٹھے اسلامی بھائيو !اللہ لکے محبوب دانائے غیوب نے ارشاد فرمایا
شِرَارُ عِبَادِ اﷲِ الْمَشَّائُوْنَ بِالنَّمِیْمَۃِ الْمُفَرِّقُوْنَ بِیْنَ الْاَحِبَّۃِ۔