ہو تو قیاس یہ ہے کہ اس علت کے زائل ہونے سے وہ حکم بھی زائل ہوجاتا ہے اور اخوت کی علت دین میں تعاون ہے اور ارتکاب گناہ کے ساتھ یہ علت قائم نہیں رہ سکتی؟
تواسکا جواب سیدنا امام غزالی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کچھ یوں دیتے ہیں۔
(جواباً) میں کہتا ہوں کہ یہ طریقہ زیادہ خوشگوار اس لئے ہے کہ اس میں نرمی اختیار کی جاتی ہے اور ایسا شفقت بھرا سلوک ہوتا ہے جو رجوع اور توبہ تک پہنچاتا ہے کیونکہ صحبت باقی رہے گی تو حیاء بھی باقی رہے گی اور جب دوستی ہی باقی نہیں رہے گی تو وہ گناہ پر ڈٹ جائے گا۔
اور جہاں تک اس کے قیاس کے مطابق ہونے کا تعلق ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اخوت ایسا عقد ہے جو قرابت کے قائم مقام ہے جب اس کا انعقاد ہوتا ہے تو حق پکا ہوتا ہے تو حق پکا ہوجاتا ہے اور اس کو پورا کرنا واجب ہوتا ہے' اب اس کے پکا ہوجانے اور اس کو پورا کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ دوست کو ضرورت اور محتاجی کے دنوں میں نہ چھوڑا جائے اور دین کی محتاجی' مال کی محتاجی سے زیادہ سخت ہے اور ارتکاب گناہ کی وجہ سے وہ آفت میں مبتلا ہوا اور زخمی ہوچکا ہے جس کی وجہ سے وہ دینی اعتبار سے محتاج ہے لہٰذا اس کا خیال رکھنا اور اسے نہ چھوڑنا ضروری ہے بلکہ اس سے مسلسل مہربانی کا سلوک کیا جائے تاکہ وہ جس حادثے میں پھنسا ہواہے اس سے چھٹکارا حاصل کرنا اس کے لئے آسان ہو جائے ۔
کیونکہ دوستی زمانے کے حادثات اور مصائب کے موقعہ پر کام آنے کے لئے ہی ہوتی ہے اور یہ تو سب سے سخت مصیبت ہے۔ اور فاجر آدمی جب کسی متقی کا ساتھی بنتا ہے تو وہ اس کے خوف اور ہمیشہ ساتھ رہنے کی وجہ سے گناہ پر اصرار سے حیاء کرتے ہوئے اس کے قریب ہوجاتا ہے بلکہ سست آدمی جب کام کے حریص کی صحبت اختیار کرتاہے تو اس سے حیاء کرتے ہوئے خود بھی کام کی حرص کرتاہے۔
حضرت جعفر بن سلیمان (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں جب میں کام میں سستی کرنے لگتا ہوں تو حضرت محمد بن واسع (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )کی طرف دیکھتا ہوں اور عبادت کی طرف متوجہ ہوجاتا ہوں اس طرح مجھے عبادت میں تازگی اور سرور حاصل ہوجاتا ہے اور سستی دور ہوجاتی ہے اور ہفتہ بھر چست رہتا ہوں ۔
مطلب یہ ہے کہ دوستی بھی نسبی رشتہ کی طرح ایک رشتہ ہے اور کسی قریبی رشتہ دار کو اس کے گناہ کی وجہ سے چھوڑا نہیں جاتا۔ اسی لئے اﷲ (عزوجل) نے اپنے نبی صلی تعالی علیہ وسلم سے فرمایا۔