Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
303 - 325
وفادار دوست :
واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ دو (دینی) بھائی تھے جن میں سے ایک نفسانی خواہش میں مبتلا ہوگیا اس نے دوسرے سے کہا میں قصور وار ہوں اگر تم مجھ سے اﷲ (عزوجل) کے لئے دوستی نہ کرنا چاہو تو تمہیں اجازت ہے ایسا کرلو اس نے کہا میں تمہاری خطاء کی وجہ سے عقد اخوت نہیں توڑوں گا پھر اس نے دعا مانگی کہ جب تک اﷲ (عزوجل) میرے اس بھائی کو خواہش نفسانی سے نہیں بچائے گا میں کھانا نہیں کھاؤں گا وہ چالیس دن تک اس سے اس کی خواہش کے بارے میں پوچھتا رہا وہ کہتا میرا دل اسی پہلی حالت پر قائم ہے وہ غم اور بھوک سے پگھلتا رہا حتی کہ جب چالیس دن گزرے تو اس کے بھائی کے دل سے وہ خیال جاتا رہا اس نے اسے بتایا تو اس نے کھانا کھایا اور پانی پیا اس وقت وہ کمزوری کی وجہ سے مرنے کے قریب ہوچکا تھا۔

اسی طرح بزرگوں(رضی اﷲ تعالیٰ عنہم) میں سے دو اسلامی بھائیوں کے بارے میں منقول ہے کہ ان میں سے ایک ثابت قدم نہ رہا تو دوسرے سے کہا گیا کیا تم اس سے تعلقات ختم نہیں کرتے اور اسے چھوڑ نہیں دیتے انہوں نے کہا کہ اب تو اسے میری زیادہ ضرورت ہے کہ میں اس کا ہاتھ پکڑ کر اور نہایت نرمی سے عتاب کرتے ہوئے اس کے رجوع کے لئے دعا کروں۔

میں تمہیں نہیں پہچانتا :

اسرائیلی روایات میں ہے کہ دو عبارت گزار آدمی ایک پہاڑ میں تھے ان میں سے ایک شہر میں گیا تاکہ ایک درھم کا گوشت خریدے اس نے گوشت والے کے پاس ایک فاحشہ عورت کو دیکھا تو اس پر فریفتہ ہوگیا اور گناہ میں گرفتار ہو گیا اور تین دن اس کے پاس ٹھہرا رہا اب وہ شرم کے مارے اپنے (دینی) بھائی کے پاس جانے سے ہچکچانے لگا اس کے بھائی نے اسے نہ پایا تو پریشان ہوا اور شہر میں جا کر تلاش کرنے لگا لوگوں سے پوچھتا رہا حتی کہ اسے معلوم ہوگیا اس تک پہنچا لیکن دوسرے نے حیاء کی وجہ سے کہا ''میں تمہیں نہیں پہچانتا''اس نے کہا بھائی ! اٹھو مجھے تمہارے تمام واقعہ کا علم ہوچکا ہے میرے نزدیک تو اس وقت جس قدر معزز اور محبوب ہے اس سے پہلے نہ تھا اس نے جب دیکھا کہ وہ اس کی نظروں سے نہیں گرا تو اٹھ کھڑا ہوا اور اس کے ساتھ چلا گیا۔

تو میٹھے میٹھے اسلامی بھائيو !ایک جماعت کا طریقہ یہ تھا اور یہ طریقہ حضرتِ ابو ذر (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کے طریقے سے زیادہ لطیف اور قیاس کے مطابق ہے لیکن آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کا طریقہ زیادہ محفوظ ہے۔

اگر تم کہو کہ تم نے اس دوسرے طریقے کو زیادہ لطیف اور قیاس کے مطابق کیسے کہہ دیا۔ حالانکہ اس قسم کا گناہ کرنے والے کو شروع سے بھائی بناناجائز نہیں اس لئے اب اس سے انقطاع کرنا واجب ہے کیونکہ کوئی حکم جب کسی علت سے ثابت
Flag Counter