| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
ان کے خیال میں اﷲ (عزوجل) کے لئے محبت اور اﷲ (عزوجل) کے لئے دشمنی کا تقاضا یہی ہے۔ حضرت سیدنا ابودرداء اور صحابہئ کرام ثکی ایک جماعت نے اس کے خلاف موقف اختیار کیا ہے حضرت ابو درداء (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں جب تمہارے دوست کی حالت بدل جائے اور وہ پہلی حالت سے پھر جائے تو اس وجہ سے اسے نہ چھوڑو کیونکہ تمہارا بھائی کبھی ٹیڑھے راستے پر چلے گا کبھی سیدھے راستے پر آجائے گا۔ حضرت ابراہیم نخعی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں ''گناہ کی وجہ سے اپنے بھائی سے قطع تعلق نہ کرو اور نہ اسے چھوڑو کیونکہ آج وہ گناہ کرتا ہے تو کل اسے چھوڑ دے گا ۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا عالِم کی لغزش کا کسی سے ذکر نہ کرو کیونکہ عالم لغزش کرتا ہے پھر اسے چھوڑ دیتا ہے۔'' حدیث شریف میں ہے :
اِتَّقُوْا زَلَّۃَ الْعَالِمِ وَلاَ تَقْطَعُوْہُ وَانْتَظِرُوْا فَیْئَتَہ'۔
''عالم کی لغزش سے ڈرو اور اس سے تعلقات منقطع نہ کرو بلکہ اس کے رجوع کا انتظار کرو'' (الکامل لابن عدی جلد ۶ ص ۲۰۸۱ من اسمہ کثیر) حضرت سیدنا عمر فاروق (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کی ایک روایت میں ہے آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے ایک شخص کو اپنا بھائی بنایا تھا وہ شام کی طرف چلا گیا جب ایک شخص شام سے آیا تو آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے اس کے بارے میں پوچھا اور فرمایا میرے بھائی کا کیا حال ہے ؟ اس نے کہا وہ تو شیطان کا بھائی ہے آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے فرمایا کیوں ؟ اس نے کہا اس نے بہت کبیرہ گناہ کئے حتی کہ شراب نوشی میں مبتلا ہوگیا آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )نے فرمایا جب جانے لگو تو مجھے بتانا چنانچہ جب وہ جانے لگا تو آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے ایک خط لکھا جس میں آپ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ ) نے یوں لکھا۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیۡمِ ﴿﴾ حٰمٓ ۚ﴿۱﴾تَنۡزِیۡلُ الْکِتٰبِ مِنَ اللہِ الْعَزِیۡزِ الْعَلِیۡمِ ۙ﴿۲﴾غَافِرِ الذَّنۡۢبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیۡدِ الْعِقَابِ ۙ ذِی الطَّوْلِ ؕ
ترجمہ کنز الایمان'' یہ کتاب اتار نا ہے اﷲ (عزوجل) کی طرف سے جو عزت والا' علم والا ' گناہ بخشنے والا ' اور توبہ قبول کرنا والا' سخت عذاب کرنے والا' بڑے انعام والا'' (پارہ ۲۴' سورہئ غافراسے سورہئ مومن بھی کہا جاتا ہے آیت ۱) پھر اسے عتاب وملامت کی ۔۔۔۔۔۔ جب اس نے خط پڑھا تو رویا اور کہا ''اﷲ تعالیٰ نے سچ فرمایا اور حضرت عمر فاروق (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے مجھے نصیحت فرمائی چنانچہ اس نے توبہ کی اور رجوع کرلیا۔''