حضرت سیدنا ابوبکر کتانی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں ایک شخص میرا ساتھی بن گیا اور میرے دل پر بوجھ تھا یعنی دل میں اسکی طرف سے خواہ مخواہ کی نا پسندیدگی تھی ۔ایک دن میں نے اسے کوئی چیز بطور تحفہ دی تاکہ میرے دل کا بوجھ اتر جائے لیکن وہ نہ اترا ایک دن میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے گھر لے جا کر کہا اپنا پاؤں میرے رخسار پر رکھ دو اس نے انکار کیا میں نے کہا یہ ضروری ہے چنانچہ اس نے رکھ دیا تو وہ بوجھ میرے دل سے اتر گیا۔
حضرت سیدنا ابو علی رباطی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں میں حضرت سیدنا عبد اﷲ رازی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کا ساتھی بن گیا وہ جنگل میں جارہے تھے انہوں نے کہا امیر تم ہوگے یا میں ؟ میں نے کہا آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) ہوں گے انہوں نے فرمایا پھر تمہیں میرا حکم ماننا پڑے گا میں نے کہا جی ہاں مانوں گا۔ انہوں نے ایک تھیلالے کر اس میں سامان ڈالا اور اپنی پیٹھ پر اٹھالیا جب میں کہتا آپ مجھے دیں تو وہ فرماتے کیا تم نے نہیں کہا تھا کہ تم امیر ہو؟ لہٰذا تم پر حکم ماننا لازم ہے رات کے وقت بارش نے ہمیں آلیا تو وہ صبح تک میرے سرہانے کھڑے رہے اور ان پر ایک چادر تھی میں بیٹھا ہوا تھا اور وہ مجھے بارش سے بچارہے تھے میں دل میں کہتا کاش کہ میں مرجاتا اور یہ نہ کہتا کہ آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) امیر ہیں۔