Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
301 - 325
انوکھی عاجزی :
حضرت سیدنا ابوبکر کتانی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں ایک شخص میرا ساتھی بن گیا اور میرے دل پر بوجھ تھا یعنی دل میں اسکی طرف سے خواہ مخواہ کی نا پسندیدگی تھی ۔ایک دن میں نے اسے کوئی چیز بطور تحفہ دی تاکہ میرے دل کا بوجھ اتر جائے لیکن وہ نہ اترا ایک دن میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے گھر لے جا کر کہا اپنا پاؤں میرے رخسار پر رکھ دو اس نے انکار کیا میں نے کہا یہ ضروری ہے چنانچہ اس نے رکھ دیا تو وہ بوجھ میرے دل سے اتر گیا۔

حضرت سیدنا ابو علی رباطی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں میں حضرت سیدنا عبد اﷲ رازی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کا ساتھی بن گیا وہ جنگل میں جارہے تھے انہوں نے کہا امیر تم ہوگے یا میں ؟ میں نے کہا آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) ہوں گے انہوں نے فرمایا پھر تمہیں میرا حکم ماننا پڑے گا میں نے کہا جی ہاں مانوں گا۔ انہوں نے ایک تھیلالے کر اس میں سامان ڈالا اور اپنی پیٹھ پر اٹھالیا جب میں کہتا آپ مجھے دیں تو وہ فرماتے کیا تم نے نہیں کہا تھا کہ تم امیر ہو؟ لہٰذا تم پر حکم ماننا لازم ہے رات کے وقت بارش نے ہمیں آلیا تو وہ صبح تک میرے سرہانے کھڑے رہے اور ان پر ایک چادر تھی میں بیٹھا ہوا تھا اور وہ مجھے بارش سے بچارہے تھے میں دل میں کہتا کاش کہ میں مرجاتا اور یہ نہ کہتا کہ آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) امیر ہیں۔
پانچواں حق 

دوست کی لغزشوں اور خطاؤں کو معاف کردینا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائيو ! دوست کی لغزش یا تو دینی اعتبار سے ہوگی اسکی صورت یہ ہو گی کہ وہ گناہوں کا ارتکاب کر ے گا یا وہ لغزش خود تمہارے حق میں ہوگی کہ اس نے اخوت میں کوتاہی کی بہرحال اگر گناہ کے ذریعے اس نے دینی اعتبار سے لغزش کی ہے اور وہ اس پر ڈٹا ہوا ہے تو تم پر لازم ہے کہ اسے نرمی سے سمجھاؤ کہ اس کی کج روی، راستی میں بدل جائے اس کے حالات درست ہوجائیں اور وہ دوبارہ اصلاح کی طرف آجائے اور اگر تمہیں اس کی طاقت نہ ہو اور وہ گناہ پر ڈٹا ہوا ہو تو اس سلسلے میں صحابہ کرام (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) اور تابعین (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کے راستے مختلف ہیں کہ آیا اس سے دوستی کا حق ہمیشہ نبھایا جائے یا تعلق کردیا جائے۔

حضرت سیدنا ابو ذر (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کا نقطہ نظریہ ہے کہ تعلق ختم کردیا جائے۔ انہوں نے فرمایا ''جب تمہارے دوست کی پہلی حالت تبدیل ہوگئی ہے تو تم بھی اب محبت کی بجائے اس سے بغض رکھو ''۔
Flag Counter