| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
اس کے علاوہ کچھ بتائیں۔ انہوں نے فرمایا اور کچھ نہیں۔ حضرت سیدنا حذیفہ مرعشی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے' یوسف بن اسباط (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کو لکھا مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم نے اپنا دین دو پیسوں کے عوض بیچ دیا ہے' تم دودھ والے کے پاس کھڑے ہوئے اور تم نے پوچھا کہ یہ کتنے کا ہے ؟ اس نے کہا درھم کے چھٹے حصے کا تم نے کہا نہیں درھم کے آٹھویں حصے کا' اس نے کہا یہ آپ کا ہوا اور وہ تمہارا عقیدت مندتھا ۔۔۔۔۔۔ اپنے سرسے غافلین کی چادر ہٹاؤ' غفلت کی نیند سے جاگو اور جان لو کہ جو شخص قرآن پاک پڑھتا ہے لیکن اس کے سبب سے قناعت اختیار نہیں کرتا اور دنیا کو ترجیح دیتا ہے تو مجھے ڈر ہے کہ وہ اﷲ (عزوجل) کی آیات کے ساتھ مذاق کرنے والوں میں سے نہ ہو۔ اور اﷲ (عزوجل) نے جھوٹوں کے بارے میں بتایا کہ وہ اپنے ناصحین سے بغض رکھتے ہیں۔ ارشاد خداوندی ہے:
وَلٰکِنۡ لَّاتُحِبُّوۡنَ النّٰصِحِیۡنَ ﴿۷۹﴾
ترجمہ کنز الایمان'' مگر تم خیر خواہوں کے غرضی ہی نہیں'' (پارہ نمبر ۸' سوره اعراف آیت ۷۹)یعنی انہیں نا پسند کرتے ہو۔ بہر حال یہ (مذکورہ بالا) صورت اسی عیب میں ہے جس سے وہ غافل ہو۔ اور اگر تمہیں معلوم ہو کہ وہ خود اپنے عیب سے واقف ہے لیکن طبعی طور پر مجبور ہے تو اگر وہ اپنے جرم کو چھپاتا ہے تو اس کا پردہ فاش کرنا مناسب نہیں اور اگر وہ ظاہر کرتا ہے تو نرمی کے ساتھ نصیحت کی جائے کبھی اشارے کنائے سے اور کبھی صراحتاً کہا جائے لیکن اس قدر کہ اسے وحشت نہ ہو۔ اور اگر تمہیں معلوم ہو کہ اس پر نصیحت اثر نہیں کرتی اور وہ طبعی طور پر اس کام کو جاری رکھنے پر اصرار کرتا ہے تو اس سے خاموشی بہتر ہے۔ یہ تمام باتیں وہ ہیں جو تمہارے (دینی) بھائی کی دینی یا دنیاوی اصلاح اور فوائد سے متعلق ہیں۔ لیکن جو کچھ وہ تمہارے حق میں کوتاہی کرتا ہے تو اس کو برداشت کرنا' معاف کرنا اور در گزر کرنا واجب ہے' اس سے چشم پوشی کی جائے اور اس سلسلے میں مزاحمت کرنا نصیحت نہیں ہے ہاں اگر صورت حال یہ ہو کہ اس کام کے تسلسل کا نتیجہ قطع تعلق کی صورت میں نکلے گا تو تعلق ختم کرنے کی نسبت علیحدگی میں اسے جھڑکنا بہتر ہے اور اس سلسلے میں صراحتاً کہنے کی بجائے اشاروں کنایوں سے بات کرنا زیادہ مناسب ہے' علاوہ ازیں آمنے سامنے گفتگو کی بجائے تحریر زیادہ بہتر ہے اور برداشت کرنا سب سے بہتر ہے کیونکہ تمہارا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ اپنے بھائی کی رعایت کرو اپنی اصلاح کرو اس کے حق کو قائم کرو اور اس کی کوتاہی کو برداشت کرو۔ یہ مقصد نہ ہو کہ اس سے مدد یا فوائد حاصل کرو۔