| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
حضرت سیدنا ذوالنون مصری (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں۔ اﷲ (عزوجل) کے ساتھ دوستی راضی برضا ہو کر' مخلوق کے ساتھ دوستی خیر خواہی کے تحت اور نفس کے ساتھ تعلق اسکی مخالفت کے طریقے پر اور شیطان کے ساتھ دشمنی کے طور پر ہونا چاہئے۔ اگر تم کہو کہ جب نصیحتوں میں عیبوں کا ذکر ہوگا تو اس سے دوست کے دل کو وحشت ہوگی تو یہ بات حقِ اخوت سے کیسے ہوگی؟ تو جان لو کہ وحشت اس عیب کے ذکر سے ہوگی جسے تمہارا بھائی اپنے بارے میں جانتا ہے لیکن جس عیب کے بارے میں وہ نہیں جانتا اس سے آگاہ کرنا عین شفقت ہے اور اس کے دل کو اپنی طرف مائل کرنا ہے اور اس سے عقل مند لوگوں کے دل مراد ہیں جہاں تک بیوقوف لوگوں کا تعلق ہے تو ان کی طرف توجہ نہ کی جائے۔
حقیقی محُسن :
کیونکہ جو آدمی تمہیں کسی ایسے برے کام سے خبر دار کرتا ہے جس کے تم مرتکب ہو یا تمہارے اندر کوئی بری عادت پائی جاتی ہے تو وہ تمہیں پاک کرنا چاہتا ہے جیسے کوئی شخض تمہیں بتائے کہ تمہارے کپڑے کے نیچے سانپ یا بچھو ہے ۔ پس اگر تم اس نصیحت کو برا جانو ! تو تم سے زیادہ بیوقوف کون ہوگا؟ اور بری صفات سانپ اور بچھو ہیں جو دنیا اورآخرت میں ہلاک کریں گی وہ روح اور دل کو کاٹتی ہیں اور ظاہری جسم کو کاٹنے والی چیزوں کی نسبت ان کے کاٹنے سے زیادہ تکلیف ہوتی ہے اور یہ جلانے والی آگ سے پیدا کی گئی ہیں
عیبوں کا تحفہ :
اسی لئے حضرت سیدنا عمر فاروق (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) اپنے دوستوں سے اپنے عیبوں پر آگاہی کا ہدیہ طلب کرتے تھے اور فرماتے اﷲ (عزوجل) اس شخص پر رحم کرے جو اپنے بھائی کو عیبوں کا تحفہ دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔ اور یہی وجہ ہے کہ جب حضرت سیدنا سلمان (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) ' حضرت سیدنا عمر فاروق (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ تو حضرت عمر فاروق (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے پوچھا میری کون سی ناپسندیدہ بات آپ تک پہنچتی ہے؟ انہوں نے فرمایا مجھے معاف کیجئے (نہ پوچھیں) لیکن جب آپص نے اصرار کیا تو حضرت سیدنا سلمان (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے عرض کی ''مجھے خبر ملی ہے کہ آپ کے پاس دو لباس ہیں ایک دن کے وقت پہنتے ہیں اور دوسرا رات کو' اور مجھے معلوم ہوا کہ آپ کہ ہاں ایک دسترخوان پر دو سالن جمع ہوتے ہیں '' حضرت سیدنا عمر فاروق (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے وضاحت فرمائی کہ جہاں تک ان دو چیزوں کا تعلق ہے تو یہ میری ضرورت ہے