حضرت سَیِّدُنَا معاذ بن جبل (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) سے روایت ہے کہ حضور پر نور، شافع یوم نشور(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ والہ وسلم ) کا ارشاد گرامی قدر ہے
اِنَّ الْعَبْدَ لَیُسْئَلُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَنْ کُلِّ شَیْءٍ حَتّٰی عَنْ کُحْلِ عَیْنَیْہٖ وَ عَنْ فِتَاتِ الطِّیْنَۃ بِاِصْبُعہٖ ثَوْبَ اَخِیْہٖ
ترجمہ : '' یعنی بروز قیامت بندے سے ہر چیز کے بارے میں سوال ہوگا یہاں تک کہ آنکھ کے سرمے ، انگلی سے مٹی کریدنے اوراپنے بھائی کے کپڑے کو چھونے کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا'' (الفردوس بماثور الخطاب ، ج۵، ص ۲۸۳، حدیث ۸۱۹۲)۔
اور ایک دوسری روایت میں ہے ۔
مَنْ تَطَیَّبَ لِلّٰہِ تَعَالیٰ جَاءَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَ رِیْحُہٗ اَطْیَبُ مِنَ الْمِسْکِ
وَمَنْ تَطَیَّبَ لِغَیْرِ اللہِ جَاءَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَ رِیْحُہٗ اَنْتَنُ مِنَ الْجِیْفَۃِ
ترجمہ : ''یعنی جو اللہ (عزوجل) کے لئے خوشبو لگائے تو قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اسکی خوشبو کستوری سے زیادہ مہک رہی ہوگی اور جو غیر اللہ (کو راضی کرنے) کے لئے خوشبو لگائے تو قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اسکی بدبو مردار سے زیادہ ہوگی۔''(مصنّف عبد الرزّاق، ج۴، ص ۳۱۹، حدیث ۷۹۳۲)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! خوشبو کا استعمال مباح ہے لیکن اسمیں اچھی یا بری نِیّت کرنے سے معاملہ کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے البتہ یہاں ایک سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ خوشبو تو انسان اپنی ذات ہی کیلئے لگاتاہے' اللہ تعالیٰ کیلئے لگانے کا کیا مطلب ہوا؟اسکا جواب یہ ہے کہ جو شخص جمعۃ المبارک کے دن یا کسی اور وقت خوشبو لگاتا ہے تو اسکے بارے میں کئی باتوں کا گمان کیا جاسکتاہے مثلا یہ کہ وہ شخص محض لذت دنیا حاصل کرنا چاہتاہے یا اسکے ذریعے لوگوں پر اپنی مالی حیثیت جتا کر تکبر کا اظہار کرتا ہے تاکہ اسکے ساتھی اس سے حسد کریں یا وہ لوگوں کو دکھانا چاہتا ہے تاکہ لوگوں کے دلوں میں اسکا رعب و دبدبہ بیٹھ