''مومن' مومن کا آئینہ ہے'' (سنن ابی داؤد جلد ۲ ص ۳۷۱ کتاب الادب) یعنی اس کے ذریعے وہ باتیں دیکھ لیتا ہے جو خود بخود نہیں دیکھ سکتا یعنی آدمی کو اپنے بھائی کے ذریعے اپنے عیوب کی پہچان حاصل ہوتی ہے اگر تنہا ہوتا تو یہ فائدہ حاصل نہ ہوتا' جیسے شیشے کے ذریعے ظاہری صورت کے عیبوں پر واقفیت حاصل کرتا ہے۔ حضرت سیدنا امام شافعی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں جو آدمی اپنے (مسلمان) بھائی کو پوشیدہ طور پرسمجھاتا ہے وہ اسے نصیحت کرتا اور زینت دیتا ہے اور جو اسے کھلے بندوں وعظ کرتا ہے وہ اسے ذلیل کرتا اور عیب دار بناتا ہے۔
لوگوں کے سامنے ڈانٹ :
حضرت سیدنا مسعر(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ ) سے پوچھا گیا کہ آپ اس آدمی کو پسند کرتے ہیں جو آپ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )کو آپ کے عیوب پر مطلع کرے انہوں نے فرمایا اگر وہ تنہائی میں مجھے وعظ کرے تو ٹھیک ہے اور اگر لوگوں کے سامنے مجھے ڈانٹے تو مجھے پسند نہیں۔ اور انہوں نے سچ کہا کیونکہ لوگوں کی موجودگی میں نصیحت' ذلت ورسوائی ہے اور اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن مومن کو اپنی پناہ اور پردے کے سائے میں عتاب فرمائے گا۔ اور اسے اس کے گناہوں پر پوشیدہ طور پر مطلع کریگا۔ اور اس کا نامہ اعمال بند کیا ہوا مہر لگا ہوا ان فرشتوں کے حوالے کیا جائے گا جو اسے جنت کی طرف لے جائیں گے جب وہ جنت کے قریب جائیں گے تو وہ اسے اسی طرح مہر بنددیں گے تاکہ وہ پڑھے۔ اور جو لوگ اﷲ (عزوجل) کی ناراضگی کے مستحق ہوں گے انہیں سب کے سامنے بلایا جائے گا اور ان کے اعضأ ان کے گناہوں کے بارے میں بتائیں گے۔ اس طرح اس کی ذلت و رسوائی بڑھ جائے گی۔ اس بڑے دن کی ذلت سے ہم اﷲ (عزوجل) کی پناہ چاہتے ہیں۔ لہٰذا جھڑک اور نصیحت کے درمیان فرق پوشیدہ رکھنے اور ظاہر کرنے سے ہوتا ہے جس طرح مدارات اور مداہنت میں فرق اس غرض سے کیا جاتا ہے جو چشم پوشی کا باعث ہے چنانچہ اگر تم اپنے دین کی سلامتی کے لئے چشم پوشی اختیار کرو نیز یہ کہ اس طرح تمہارے بھائی کی اصلاح ہوجائے تو اسے مدارات کہتے ہیں اور اگر اپنے ذاتی فائدے کے لئے خاموشی اختیار کرو نیز خواہشات کی تکمیل اور جاہ ومرتبے کی سلامتی مقصود ہو تو تم مداہن (منافق) کہلاؤ گے۔