Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
297 - 325
ایک دوسرے بزرگ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے فرمایا کہ جب میرے دوست کا ذکر ہوتا ہے تو میں اپنے آپ کو اس کی صورت میں تصور کرتا ہوں اور میں اس کے بارے میں وہ باتیں کہتا ہوں جو اپنے لئے کہلانا پسند کرتا ہوں۔ اور یہی سچے مسلمان کی علامت ہے کہ وہ اپنے بھائی کے لئے وہی بات پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔

ایک مرتبہ حضرت سیدنا ابو درداء (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے دو بیل دیکھے جو ایک ہل میں جوتے ہوئے تھے ان میں سے ایک کھڑا ہو کر جسم کو کھجلانے لگا تو دوسرا بھی کھڑا ہوگیا آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) رو پڑے اور فرمایا'' اﷲ (عزوجل) کے لئے دوستی کرنے والے اسی طرح ہوتے ہیں کہ وہ اﷲ (عزوجل) کے لئے عمل کرتے ہیں جب ان میں سے ایک ٹھہرجاتا ہے تو دوسرا بھی اس کی موافقت کرتا ہے ''

میٹھے میٹھے اسلامی بھائيو!موافقت کے ساتھ اخلاص مکمل ہوتا ہے' اور جو آدمی بھائی چارے میں مخلص نہ ہو وہ منافق ہے اور اخلاص یہ ہے کہ غیب وشہادت' زبان و قلب' ظاہر و باطن اور خلوت و جلوت ایک جیسے ہوں اور اس سلسلے میں اختلاف دوستی میں بگاڑ پیدا کرتا اور دین میں خلل ڈالتا ہے نیز اہل ایمان کے راستے میں رخنہ اندازی کرتا ہے۔

اور جو آدمی اس بات پر قادر نہ ہو اس کے لئے بھائی چارے اور دوستی کی بجائے تنہائی زیادہ بہتر ہے کیونکہ دوستی کا حق نبھانا مشکل ہے اس کی طاقت وہی رکھتا ہے جو محقق ہو اور یقینا اس کا اجر بھی بہت بڑا ہے اور یہ اسے حاصل ہوتا ہے جو اس کے لائق ہو۔

بہر حال دوستی بہت سے حقوق کا تقاضا کرتی ہے جو ایک دوسرے کے قریب' ملے ہوئے اور دائمی ہوتے ہیں جب کہ ہمسائیگی کے لئے صرف حقوق قریبہ ہوتے ہیں اور وہ بھی کبھی کبھی' ہمیشہ نہیں۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائيو ! سیدنا امام غزالی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) اس سلسلے کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں 

قولی حقوق میں اپنے دوست کو تعلیم دینا اور نصیحت کرنا بھی ہے شامل ہے کیونکہ تمھارے دوست کو علم کی ضرورت مال کی حاجت سے کم نہیں۔تو اگر تمہیں ہر قسم کا علم حاصل ہے تو تمہیں چاہئے کہ دین و دنیا کے حوالے سے فائدہ مند باتیں اسے سکھادو۔اورسکھانے کے بعد بھی اسکی مکمل راہنمائی کرواوراگر وہ اس علم کے مطابق عمل نہ کرے تو تم پر لازم ہے کہ اسے نصیحت کرو یعنی اسے اس غفلت کی آفات بتاؤ اور اسے چھوڑنے کے فوائد سے آگاہ کرو اور جو باتیں دنيا اور آخرت میں ناپسندیدہ ہیں ان سے ڈراؤ تاکہ وہ باز آئے۔

اور اسے اس کے عیبوں پر مطلع کرو بری بات کی برائی اور اچھی بات کی اچھائی اس کے سامنے واضح کرو لیکن یہ تمام کام پوشیدگی کے ساتھ بطریقِ احسن ہونا چاہئے تاکہ کسی دوسرے کو اس پر اطلاع نہ ہو کیونکہ جو کچھ لوگوں کے سامنے ہوتا ہے وہ جھڑکنے اور رسوا کرنے میں شامل ہے اور جو نصیحت علیحدگی میں ہو وہی شفقت ونصیحت ہے ۔