Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
295 - 325
اہل خانہ اور اس کے کام اور فن بلکہ اس کی عقل' شکل و صورت' کتابت' شعر اور تصنیفات وغیرہ بلکہ ہر اس بات پر اس کی تعریف کرو جس پر وہ خوش ہوتا ہے لیکن اس میں جھوٹ یا حد سے تجاوز نہ ہو۔ البتہ جو قابل تحسین ہو اس کی تعریف ضروری ہے' اور اس سے بھی زیادہ تاکید اس بات کی ہے کہ اگر کوئی شخص ا س کی تعریف کرے تو تم اس تک یہ بات پہنچاؤ اور خوشی کا اظہار بھی کرو کیونکہ اسے چھپانا محض حسد ہے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائيو ! محبت کے قولی اظہار کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے اوپر جو احسان کیا ہو اس پر اس کا شکریہ ادا کرو بلکہ اگر تمہارا کام نہ بھی ہو تب بھی اس کی نیت پر شکریہ ادا کرو۔حضرت سیدنا علی المرتضیٰ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں۔
سب سے مؤثر بات :
جو شخص اپنے بھائی کی اچھی نیت پر اس کی تعریف نہیں کرتا وہ اس کے اچھے سلوک پر بھی اس کی تعریف نہیں کرتا۔

محبت کے حصول میں اس سے زیادہ مؤثر بات یہ ہے کہ جب اس کی عدم موجودگی میں کوئی شخص اس کی برائی کا ارادہ کرے یا اس کی عزت کے درپے ہو تو اس کی حمایت اور طرف داری کرے اور اس بدگو کو رکنے پر مجبور کردے اور اگر مناسب ہو تو اس سے سخت کلامی بھی کرے کہ اس وقت خاموشی اختیار کرنا دل کے کینے اور نفرت کا باعث ہے اور حق اخوت کی ادائیگی میں کوتاہی ہے۔

کیونکہ نبی اکرم  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے دو (مسلمان) بھائیوں کو دو ہاتھوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے کہ ان میں سے ایک دوسرے کو دھوتا ہے۔ (الفردوس بما ثور الخطاب جلد ۴ ص ۱۳۲ حدیث ۶۴۱۱) مطلب یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کی مدد کریں اور قائم مقام ہوں۔

نیز آقائے دو عالم نبی اکرم  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  نے فرمایا:
اَلْمُسْلِمُ اَخُ الْمُسْلِمِ لاَ یَظْلِمُہ' وَ لاَ یَخْذُلُہٗ وَ لاَ یَثْلِمُہ'۔
''مسلمان' مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ تو اس پر ظلم کرتا ہے نہ اسے ذلیل و رسوا کرتا ہے نہ اسے نقصان پہنچاتا ہے'' 

(صحیح مسلم جلد ۲ ص ۳۱۵ کتاب البروالصلۃ)

اور اس کی برائی سننا اسے ذلیل و رسوا کرنا اور دشمن کے حوالے کرنا ہے کیونکہ اس کی عزت کو ٹکڑے ٹکڑے ہوتے دیکھ کر خاموش رہنا اس کے گوشت کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے مترادف ہے اس کو یوں سمجھو کہ کتے تمہیں چیرتے پھاڑتے ہیں اور
Flag Counter