Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
294 - 325
کا اظہار کرے اور اس سے جن باتوں کے بارے میں پوچھنا ضروری ہے ان کے بارے میں پوچھے' جس طرح کوئی معاملہ درپیش ہو تو اس کے بارے میں سوال کرے اور اس کی وجہ سے اس کے دل کو جو پریشانی ہے اسے ظاہر کرے اس کی خیریت دریافت کئے زیادہ عرصہ گزر گیا ہو تو پوچھے اسی طرح اس کے وہ تمام حالات جنہیں یہ ناپسند کرتا ہو تو اپنی زبان اور عمل سے اس ناپسندیدگی کو ظاہر کرے۔ اور وہ تمام حالات جو اس کی خوشی کا باعث ہوں اپنی زبان سے اس خوشی میں شرکت کو ظاہر کرے کیونکہ اخوت کا مطلب خوشی اور تکلیف دونوں حالتوں میں شریک ہونا ہے۔

چنانچہ نبی اکرم  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا :
اِذَا اَحَبَّ اَحَدُکُمْ اَخَاہُ فَالْیُخْبِرْہُ۔
''جب تم میں سے کوئی اپنے (مسلمان) بھائی سے محبت کرے تو اس کو بتادے'' ( المستدرک للحاکم جلد ۴ ص ۱۷۱ کتاب البروالصلۃ)

آپ  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  نے خبر دینے کا حکم دیا کیونکہ یہ محبت میں اضافہ کا باعث ہے اگر اسے معلوم ہوجائے کہ تم اس سے محبت کرتے ہو تو وہ لامحالہ فطری طور پر تم سے محبت کریگا۔ اور جب تمہیں معلوم ہوگا کہ وہ تم سے محبت کرتا ہے تو لازماً اس سے تمہاری محبت بھی بڑھے گی تو مسلسل دونوں طرف سے محبت بڑھتی رہے گی اور دو مومنوں کے درمیان باہمی محبت شرعاًمطلوب اوردینی اعتبار سے محبوب ہے اسی لئے نبی اکرم  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس کا طریقہ سکھاتے ہوئے فرمایا:
تَھَادَوْا تَحَابُوْا۔
''تحائف کا تبادلہ کیا کرو باہم محبت پیدا ہوگی'' (السنن الکبریٰ للبیہقی جلد ۶ ص ۱۶۹ کتاب الہبات)

اور اس کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ اس کے سامنے اور پیٹھ پیچھے بھی اسے سب سے اچھے نام سے پکارا جائے ۔ چنانچہ
تین پسند ید ہ کام :
حضرت سیدنا عمر فاروق (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے فرمایا ''تین باتیں ایسی ہیں جو تمہاری محبت تمہارے (مسلمان) بھائی کے دل میں پیدا کر دیں گی ۔جب ملاقات ہو تو سلام کرنے میں پہل کرو مجلس میں اس کے لئے جگہ بناؤ اور اسے اسکے پسندیدہ نام سے پکارو''۔

محبت کے زبانی اظہار کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ تمہیں اس کے جو اچھے اوصاف معلوم ہیں ان کا تذکرہ اپنے دیگر ایسے دوستوں سے کرو جنکے سامنے وہ اپنی تعریف کو پسند کرتا ہے' حصولِ محبت کا یہ بہت بڑا اور اہم سبب ہے اسی طرح اس کی اولاد'
Flag Counter