''تمہارے پاس لوگوں کو مال دینے کی گنجائش نہیں لیکن خندہ پیشانی اور اچھے اخلاق سے تو پیش آسکتے ہو''
( المستدرک للحاکم جلد اول ص ۱۲۴' ابواب البروالصلۃ)
کتنا ۔۔۔۔۔۔؟:
اور ایک دوسرے کی بات کاٹنا اچھے اخلاق کے خلاف ہے اور اسلاف بات کاٹنے سے بہت بچتے تھے اور ایک د وسرے کی مدد میں مبالغہ کرتے تھے حضرت سیدنا ابو سلیمان دارانی فرماتے ہیں عراق میں میرا ایک دوست تھا مجھے جب کوئی پریشانی ہوتی تو میں اس کے پاس جاتا اور اس سے مال طلب کرتا تو وہ اپنی تھیلی مجھے دے دیتا اور میں سے جس قدر چاہتا لے لیتا' ایک دن میں اس کے پاس آیا اور حسب عادت اس سے مال طلب کیا اس نے پوچھاکتنا ؟ تو میرے دل سے اس کے بھائی چارے کی حلاوت نکل گئی۔
ایک دوسرے بزرگ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں جب تم اپنے بھائی سے مال طلب کرو اور وہ پوچھے کہ کیا کرو گے ؟ تو اس نے بھائی چارہ کا حق چھوڑ دیا اور جان لو کہ بھائی چارہ اسی صورت میں قائم رہتا ہے جب باہمی عادات اور محبت میں دونوں طرف سے یکسانیت ہو۔
یہ حق زبان سے گفتگو کے اعتبار سے ہے جس طرح اخوت ناپسندیدہ باتوں سے خاموشی کا تقاضا کرتی ہے اسی طرح یہ شفقت اور ہمدردی سے بھرپور گفتگو کا تقاضا بھی کرتی ہے بلکہ یہ بات تو اخوت کے لئے زیادہ ضروری ہے کیونکہ جو آدمی موقع بے موقع خاموش رہتا ہے اسے اہل قبور سے دوستی لگانی چاہئے۔بھائی تو اسی لئے بنائے جاتے ہیں کہ ان سے فائدہ حاصل کیا جائے یہ مقصد نہیں کہ ان کی طرف سے پہنچنے والی اذیت سے چھٹکارا پایا جائے۔ اور خاموشی کا مطلب تکلیف دینے سے رکنا ہے لہٰذا اس پر لازم ہے کہ وہ زبان کے ذریعے اس سے دوستی