بعدقطع تعلقی شروع ہوجا تی ہے۔
چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔
''ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو' نہ ایک دوسرے سے دشمنی کرو' نہ حسد کرو' اور نہ تعلقات توڑ نے والے بنو اور اﷲ کے بندو ! بھائی بھائی بن جاؤ مسلمان' مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرتا ہے نہ اسے محروم کرتا ہے اور نہ اسے رسوا کرتا ہے انسان کے لئے اتنی برائی ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے''۔ (صحیح مسلم جلد ۲ ص ۳۱۵ کتاب البروالصلۃ)
اورحقیر سمجھنا اس کی بات کاٹنا ہے کیونکہ جو شخص دوسرے کی بات کو رد کرتا ہے وہ اسے جاہل اور بیوقوف سمجھتا ہے نیز وہ اسے غافل اورنا سمجھ قرار دیتا ہے اور یہ تمام باتیں دوسرے کو حقیر سمجھنے اور دل میں اس سے کینہ رکھنے کی علامات ہیں۔
حضرت سیدناابو امامہ باہلی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کی روایت میں ہے فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم ایک دوسرے کی بات رد کررہے تھے' آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم جلال میں آگئے اور فرمایا '' ایک دوسرے کی بات کاٹنا ترک کردو اس میں بہت کم بھلائی ہے' ایک دوسرے کی بات کاٹنا چھوڑ دو کیونکہ اس کا نفع کم ہے اور یہ (مسلمان) بھائیوں کے درمیان دشمنی کو ابھارتی ہے۔ (مجمع الزوائد جلد اول ص ۱۵۶ کتاب العلم)
کسی بزرگ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے فرمایا '' جو شخص اپنے (مسلمان) بھائیوں سے لڑتا جھگڑتا اور ان کی بات کو رد کردیتا ہے اس کی مروت کم ہوجاتی ہے اور اس کی عزت بھی جاتی رہتی ہے۔''
حضرت سیدنا عبد اﷲ حسن (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے فرمایا لوگوں کی باتیں کاٹنے سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ تم کسی عقل مند کے مکر اور کمینے شخص کے اچانک حملے سے بچ نہیں سکو گے۔
بعض بزرگوں نے فرمایا کہ جو شخص (مسلمان) بھائیوں کی طلب میں کوتاہی کرتا یعنی بھائی بنانے میں سستی کرتاہے وہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ عاجز ہے اور اس سے زیادہ عاجز وہ ہے جو مسلمان بھائی کو حاصل کرنے کے بعد اسے ہاتھ سے ضائع کردیتا ہے اور دوسرے کی بات کو زیادہ کاٹنا اسے ضائع کرنے اور قطع تعلق کا سبب ہے اور اس سے عداوت پیدا ہوتی ہے۔
حضرت حسن (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے فرمایا ''ایک ہزار آدمی کی دوستی کے بدلے میں بھی ایک شخص کی دشمنی نہ خریدو۔''
میٹھے میٹھے اسلامی بھائيو! نتیجہ یہ ہوا کہ دوسرے کی بات کو رد کرنے کا باعث یہی بات ہے کہ انسان دوسرے کی نسبت اپنے آپ کو زیادہ عقلمند اور صاحب فضیلت سمجھے اور جس کی بات رد کررہا ہے اسے جاہل ظاہر کرے حقیر جانے اور اس صورت میں تکبر کرنا حقیر جاننا اور جہالت و بیوقوفی کی وجہ سے تکلیف پہنچانا اور گالی گلوچ کرنے جیسی خرابیاں پیدا ہوتی ہيں اور دشمنی کا مطلب بھی یہی ہے۔ تو اس صورت میں دوستی اور اخوت کیسے ہوگی ؟