| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
تم کریم آدمی کو دیکھو گے کہ جب تم اس سے قطع تعلق کروتو وہ بری بات کو چھپاتا اور اچھی بات کو ظاہر کرتا ہے اور کمینے آدمی کو دیکھو گے کہ اچھی بات کو چھپاتا اور بری بات کو ظاہر کرتا ہے۔
پانچ مدنی پھول :
حضرت سیدنا عباس (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے اپنے صاحبزادے حضرت عبد اﷲ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) سے فرمایا میں ایک شخص یعنی حضرت عمر فاروق (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کو دیکھتا ہوں کو وہ تمہیں بزرگوں پر بھی مقدم کرتے ہیں لہٰذاپانچ باتیں یاد رکھو۔ (۱) ان کے کسی راز کو افشانہ کرنا' (۲) ان کے سامنے کسی کی غیبت نہ کرنا' (۳) ان پر جھوٹ کی جرأت نہ کرنا' (۴) ان کی نافرمانی نہ کرنا' (۵)اور وہ تمہاری کسی خیانت پر مطلع نہ ہوں۔ حضرت سیدناشعبی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں ''ان پانچ کلمات میں ہر کلمہ ایک ہزار سے بہتر ہے۔'' میٹھے میٹھے اسلامی بھائيو !اخوت کے سلسلے میں زبان کے حقوق سے متعلق ایک بات یہ بھی ہے کہ دوست کی بات نہ کاٹے اور نہ اس کی مزاحمت کرے۔ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما کاارشاد ہے''کسی بیوقوف کی بات نہ کاٹو کہ وہ تمہیں اذیت دے گا اور کسی عقل مند کی بات نہ کاٹو کہ وہ تم سے بغض رکھے گا''۔
جنت میں گھر:
نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔ ''جو شخص ناحق بات پر ہوتے ہوئے جھگڑا چھوڑ دے اس کے لئے جنت کے کنارے میں گھر بنایا جائے اور جو حق پر ہوتے ہوئے جھگڑا چھوڑدے اس کے لئے جنت کی بلندی میں گھر بنایا جائے گا''۔ (الترغیب والترہیب جلد اول ص ۱۳۱ کتاب العلم) حالانکہ باطل پر ہونے کی صورت میں اسے چھوڑنا واجب ہے لیکن اس کے باوجود اسے یہ ثواب ملے گا' اور نفل کا ثواب اس سے بھی زیادہ قرار دیا کیونکہ حق بات پر ہونے کی صورت میں خاموش رہنا نفس پر اس خاموشی سے زیادہ بھاری ہوتا ہے جو باطل پر ہونے کی صورت میں اختیار کی جاتی ہے' اور اجر تھکاوٹ کے حساب سے ملتا ہے اور دو بھائیوں کے درمیان کینے اور حسد کی آگ بھڑکنے کا سبب یہی بات کاٹنا اور اعتراض کرنا ہے کیونکہ یہی بات دلوں کی دوری اور تعلق قطع کا باعث بنتی ہے کیونکہ تعلقات کے انقطاع کا آغاز رائے کے مختلف ہونے سے ہوتا ہے پھر اقوال مختلف ہوتے ہیں اور اس کے