| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
'' بیوقوف کا دل اس کے منہ میں ہوتا ہے اور عقل مند کی زبان اس کے دل میں ہوتی ہے ۔'' مطلب یہ ہے کہ بیوقوف آدمی دل کی بات چھپا نہیں سکتا وہ اسے اس طرح ظاہر کردیتا ہے کہ اسے خود بھی پتہ نہیں ہوتا اسی لئے بیوقوں سے نہ صرف الگ رہنا واجب ہے بلکہ ان کو دیکھنے سے بھی بچنا ضروری ہے۔کسی نے کہا کہ میں اس سے چھپاتا ہوں اور اس بات کو (کہ اس سے چھپا رہا ہوں )اس سے پوشیدہ رکھتا ہوں ابن معتز نے اسے یوں بیان کیا ہے۔ جس نے مجھ سے راز چھپانے کو کہا تو میں نے اسے سینے میں رکھ دیا اور وہ اس کے لئے قبر بن گیا۔ اور ایک دوسرے شاعر نے اس سے بڑھ کر کہا۔ میرے سینے میں راز قبر کے مردوں کی طرح نہیں ہے کیونکہ اہل قبورتو اٹھنے کے انتظار میں ہیں لیکن میں اسے یوں بھلا دیتا ہوں گویا میں اس سے ایک ساعت بھی آگاہ نہ تھا۔ اوراگر دل سے بھی راز کو چھپا ناممکن ہوتا تو اسے بھی اس کا پتہ نہ چلتا۔
میں نے بھلا دیا :
ایک شخص نے اپنا راز اپنے ایک (دینی) بھائی کو بتایا پھر کہا کہ تم نے یاد کرلیا؟ اس نے کہا میں نے بھلا دیا۔ حضرت سیدنا ابو سعید ثوری (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے تھے ''جب تم کسی شخص کو اپنا بھائی بنانا چاہو تو پہلے اسے ناراض کردو پھر ایک آدمی مقرر کردو جو اس سے تمہارے بارے میں نیز تمہارے رازوں کے بارے میں سوال کرے اگر وہ اچھی بات کہے اور تمہارے راز کو پوشیدہ رکھے تو اس سے دوستی کرو''۔اسی طرح حضرت سیدنا ابویزید (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )سے پوچھا گیا کس قسم کے آدمی سے دوستی کی جائے ؟ انہوں نے فرمایا ''جو آدمی تمہارے بارے میں وہ بات جانتا ہے جوصرف اﷲ (عزوجل) کے علم میں ہے پھر وہ تمہاری پردہ پوشی اسی طرح کرے جس طرح اﷲ (عزوجل) پردہ ڈالتا ہے۔'' حضرت سیدنا ذوالنون مصری (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے فرمایا ''اس آدمی سے دوستی لگانے میں کوئی بھلائی نہیں جو تمہیں محفوظ دیکھا پسند نہیں کرتا اور جو آدمی غصے کے وقت راز فاش کردے وہ کمینہ ہے کیونکہ حالتِ رضا میں راز کو چھپاناتو تمام محفوظ طبیعتوں کا تقاضا ہے ''۔ کسی داناکا قول ہے ''ایسے شخص سے دوستی نہ لگاؤ جو چار حالتوں میں بدل جائے غصے اور رضا کے وقت نیز طمع اور خواہش کے وقت' بلکہ وہ اخوت میں سچا ہونا چاہئے اور ان حالات کی تبدیلی میں بھی ثابت قدم رہے ''۔اسی لئے کہا گیا ہے۔