Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
289 - 325
مَنْ سَتَرَعَوْرَۃَ اَخِیْہِ سَتَرَہُ اللہُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ۔
''جو شخص اپنے بھائی کی پردہ پوشی کرتا ہے اﷲ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا'' 

(صحیح مسلم جلد ۲ ص ۳۲۰ کتاب البروالصلۃ)

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں۔
فَکَاَنَّمَا اَحْیَامَوْؤُدَۃً ۔
''گویا اس نے کسی زندہ درگوربچی کو زندہ کیا'' (المستدرک للحاکم جلد ۴ ص ۳۸۴ کتاب الحدود)

اور نبی اکرم  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد گرامی قدرہے۔
اِذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ بِحَدِیْثٍ ثُمَّ الْتَفَتَ فَھُوَ اَمَانَۃٌ۔
''جب کوئی شخص بات کرے پھر ادھر اُدھر دیکھے(یعنی رازداری طلب کرے )تو وہ (بات) امانت ہے'' 

(سنن ابی واؤد جلد ۲ ص ۳۱۲ کتاب الادب)

اور آپصلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔
اَلْمَجَالَسُ باِلْاَمَانَۃِ الِاَّ ثَلَاثَۃَ مَجَالِسَ مَجْلِسٌ یُسْفَکُ فِیْہِ

دَمٌ حَرَامٌ وَمَجْلِسٌ یُسْتَحَلُّ فِیْہِ مَالٌ مِنْ غَیْرِ حِلِّہٖ۔ (ایضاً)
''مجالس امانت ہیں سوائے تین مجلسوں کے ایک وہ جس میں ناحق خون بہایا جائے' دوسری وہ مجلس 

جس میں حرام شرمگاہ کو حلال ٹھہرایا جائے اور تیسری وہ مجلس جس میں حرام مال کو حلال سمجھاجائے''

نبی کریم  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا :
اِنَّماَ یَتَجَالَسُ المُتَجَالِسَانِ بِالْاَمَانَۃِ وَلَایَحِلُّ لِاَحَدِھِمَا اَنْ یُفْشِیَ عَلَی صَاحِبِہٖ مَایَکْرَہُ۔
''دو آدمی ایک دوسرے کے پاس بطور امانت بیٹھتے ہیں اور ان میں سے کسی کے لئے جائز نہیں کہ وہ دوسرے

ساتھی کی اس بات کو ظاہر کرے جسے وہ ناپسند کرتا ہے'' (کتاب الزہد والرقائق ص ۲۴۰' ۲۴۱ حدیث ۶۹۱)
رازوں کی قبر :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! کسی صاحب ادب سے پوچھا گیا کہ تم راز کیسے چھپاتے ہو اس نے کہا میں اس کی قبر بن جاتا ہوں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اچھے لوگوں کے سینے رازوں کی قبریں ہیں یہ بھی کہا گیا کہ
Flag Counter