چنانچہ حضرت سَیِّدُنَا حسن بن علی المرتضٰی(رضی اللہ تعالیٰ عنہما) فرماتے ہیں کہ جو شخص مسجد میں بکثرت آتا جاتا ہے رب کائنات (عزوجل)اسے سات خصلتوں میں سے ایک خصلت عطا فرماتا ہے:
(۱) اسے کوئی اسلامی بھائی ملتا ہے جس سے اسے اللہ (عزوجل) کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔
(۲) یا رحمت کا نزول ہوتا ہے۔
(۳) یا کوئی نہایت عجیب و غریب علم حاصل ہوتا ہے۔
(۴) یا کوئی ایسا کلمہ سیکھ لیتا ہے جو اسے صراط مستقیم پر گامزن رکھتا ہے۔
(۵) یا وہ کلمہ اسے بیکار باتوں سے گریز کرنے پر آمادہ کر دیتا ہے ۔
(۶) یا مسجد میں آنے جانے والا اللہ (عزوجل) کے خوف سے گناہوں کو ترک کردیتا ہے۔
(۷) یااللہ (عزوجل) سے حیاء کرتے ہوئے ممنوع افعال کا ارتکاب نہیں کرتا۔
گویا یہ مدنی سوچ اچھی نِیّتوں کو بڑھانے کا ایک طریقہ ہے اور اسی پر اگرہم تمام عبادات اور جائز امور کو قیاس کریں تو ان شاء اللہ الرحمن(عزوجل) ثواب کا عظیم خزانہ ہمارے ہاتھ آئے گا۔ کیونکہ ہر عبادت میں مختلف طرح کی اچھی اچھی نِیّتیں کی جاسکتی ہیں۔اور ایک مومن کے دل میں اتنی ہی نِیّتیں حاضر رہتی ہیں جتنی نیکیاں وہ حاصل کرنے کی کو شش کرتا ہے اور اس سلسلے میں غور و تفکر کرتا رہتا ہے چنانچہ اس طرح اسے مدنی سوچ نصیب ہوتی ہے، اسکے اعمال صاف و ستھرے ہوتے ہیں اور اسکی نیکیوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔