| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
کسی کی پردہ پوشی نہ کرنا ایک باطنی بیماری کی وجہ سے ہوتا ہے جوکینہ اور حسد ہے کیونکہ کینہ پرور اور حاسد کا باطن خباثت سے بھرا ہوتا ہے لیکن وہ اسے باطن میں اس وقت تک چھپاتا ہے جب تک اسے موقع نہیں ملتا جب اس طرح کا موقع ملتا ہے توحیا اٹھ جاتی ہے اور اندرونی خباثت باہر ٹپکنے لگتی ہے۔ چنانچہ جب دل میں حسد اور کینہ ہو تو اس صورت میں کسی سے دوستی نہ لگانا زیادہ مناسب ہے۔ کسی دانا نے کہا ہے کہ ظاہری طور پر جھڑک دینا پوشیدہ کینے سے بہتر ہے اور کینہ پرور کی نرمی' وحشت میں اضافے کا باعث ہے اور جس آدمی کے دل میں کسی مسلمان کے لئے کینہ ہوتا ہے اس کا ایمان کمزور ہوتا ہے اور اس کا معاملہ' خطرناک ہوتا ہے اس کا دل اﷲ تعالیٰ سے ملاقات کے لائق نہیں ہے۔ حضرت سیدناعبد الرحمن بن جبیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں۔
تم عمل نہیں کر سکتے :
میں یمن میں تھا اور میرا ایک یہودی پڑوسی تھا جو ''تورات ''کی باتیں مجھے بتایا کرتا تھاایک مرتبہ وہ یہودی ایک سفر سے واپس آیا تو میں نے اسے بتايا کہ اﷲ تعالیٰ نے ہم میں ایک نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بھیجا ہے اس نے ہمیں اسلام کی دعوت دی اور ہم نے اسلام قبول کرلیا ہے اور ہمارے اوپر ایک کتاب اتاری گئی ہے جو تورات کی تصدیق کرتی ہے یہودی نے کہا تم نے سچ کہا لیکن جو کچھ تمہارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لے کر آئے ہیں تم اسپرعمل نہیں کرسکتے ہم تورات میں ان کی اور ان کی امت کی تعریف پاتے ہیں جس کے مطابق کسی انسان کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے دروازے کی چوکھٹ سے یوں نکلے کہ اس کے دل میں کسی مسلمان کے لئے کینہ ہو۔ اور حقوق اخوت میں سے یہ بھی ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کاراز فاش نہ کرے اوراسے اجازت ہے کہ وہ اس راز کا انکار بھی کرسکتا ہے اگرچہ یہ جھوٹ ہوگا لیکن ہر مقام پر سچ بولنا واجب نہیں (یعنی کسی اہم دینی مقصد کی تحت کبھی خلاف واقعہ بات کی جاسکتی ہے) جس طرح آدمی کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنے ذاتی عیب اور راز حتیٰ الامکان چھپائے اگرچہ اسے کوئی حیلہ بھی کرناپڑے ۔اور یہاں وہ اپنے مسلمان بھائی کے لئے ایسا کررہا ہے اور وہ بھائی خود اسی کی طرح ہے گویا یہ دونوں یک جان و وقالب ہیں اور یہی حقیقی اخوت ہے اسی طرح وہ اس کے سامنے ریا کار بھی نہیں ہوگا اور نہ ہی اس کا عمل دکھاواقرارپائے گا کیونکہ اس کے بھائی کا اس کے عمل پر مطلع ہونا خود اس کی اپنی آگاہی کی طرح ہے اس میں کوئی فرق نہیں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔