Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
287 - 325
یَا مَنْ اَظْھَرَ الْجَمِیْل َ وَ سَتَرَ الْقَبِیْحَ۔
''اے وہ !جو اچھی بات کو ظاہر کرتا اور بری بات پر پردہ ڈالتا ہے''

ا ور وہ شخص اﷲ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ ہوتا ہے جو اﷲ تعالیٰ کی صفات سے متصف ہوجب وہ رب ہونے کے باوجود عیبوں پرپردہ ڈالنے والا ،گناہوں کو بخشنے والاہے' بندوں سے درگزر کرتا ہے تو تم کیسے اس شخص سے درگزر نہیں کرتے جو تمہاری مثل یا تم سے بلند مرتبے والا ہے؟اور ہرگزتمہارا بندہ یا مخلوق نہیں ۔
چغل خور :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائيو! ایک مرتبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے حواریوں (ماننے والوں) سے فرمایا ''جب تمہارا کوئی ساتھی سویا ہوا ہو اور تم اسے یوں دیکھو کہ ہوا نے اس کا کپڑا ہٹادیا ہو تو تم کیا کرو گے؟'' انہوں نے عرض کیا ہم اسے ڈھانپ دیں گے اوراس پرپردہ ڈالیں گے ۔فرمایا'' نہیں بلکہ تم اسے بے عزت کردوگے''۔ انہوں نے عرض کیا سبحان اﷲ ! کون ایسا کریگا ؟ آپ(علیہ السلام)نے فرمایا ''وہ یوں کہ تم میں سے ایک اپنے مسلمان بھائی کے بارے میں کوئی بات سنتا ہے پھر اس میں اضافہ کرکے اسے پھیلاتا ہے تو یہ اس (کے جسم کو ننگا کرنے) سے بڑا گناہ ہے''

میٹھے میٹھے اسلامی بھائيو!آدمی کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لئے وہ بات پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے اور اخوت کا کم از کم درجہ یہ ہے کہ اپنے بھائی سے وہ معاملہ نہ کرے جو اپنے لئے پسند نہیں کرتااور اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اپنی پردہ پوشی کو پسند کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ لوگ اس کے گناہوں اور عیبوں پر خاموشی اختیار کريں اور اگر اس کے خلاف بات ظاہر ہو تو اسے اس پر سخت غصہ آتا ہے تو کتنی عجیب بات ہے کہ تودوسروں سے تو چشم پوشی کی انتظار کرے اور خود اس سے چشم پوشی نہ کرے اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ایسے لوگوں کے لئے ویل (خرابی) کا ذکر فرمایا۔

چنانچہ ارشاد خداوندی (عزوجل) ہے۔
وَیۡلٌ لِّلْمُطَفِّفِیۡنَ ۙ﴿۱﴾الَّذِیۡنَ اِذَا اکْتَالُوۡا عَلَی النَّاسِ یَسْتَوْفُوۡنَ ۫﴿ۖ۲﴾وَ اِذَا کَالُوۡہُمْ اَوۡ وَّزَنُوۡہُمْ یُخْسِرُوۡنَ ﴿ؕ۳﴾
ترجمہ کنز الایمان'' کم تولنے والوں کی خرابی ہے وہ کہ جب اوروں سے ماپ لیں پورا کریں اور جب انہیں ماپ تول کردیں کم کردیں '' (پارہ نمبر۳۰' سوره مطففین آیت ۱ تا ۳)

اورہر وہ شخص جو دوسرے سے اس سے زیادہ انصاف چاہے جتنا وہ خود کرتا ہے وہ اس آیت کے تحت داخل ہے۔
Flag Counter