Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
286 - 325
میں عدل ٹھہرانا زیادہ مناسب ہے تو جس طرح تم پر لازم ہے کہ اس کی برائیوں پرخاموش رہواسی طرح دل کے ساتھ سکوت بھی ضروری ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کی بارے میں براگمان بھی نہ کرو کیونکہ بدگمانی دل کے ساتھ غیبت کرنا ہے اوریہ بھی منع ہے اور اس کی حدیہ ہے کہ تم اس کے کسی فعل کو فاسد وجہ پر محمول نہ کرو اور جس قدر ممکن ہو اس کے بارے میں اچھی سوچ رکھواور جو بات خود ہی تمہارے سامنے آجائے کہ اسے اسکی بھول پر محمول کرو۔

اوراس گمان کی دو قسمیں ہیں ایک گمان وہ ہے جوسامنے والے کے کسی فعل کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اسے تفرس کہتے ہیں اور دوسری قسم وہ ہے جس کی بنیاد اس شخص کے بارے میں تمہاری بری سوچ ہے یعنی اس سے کوئی ایسا فعل سرزد ہو جس کو دو باتوں میں سے ایک پر محمول کیا جاسکتا ہے تو تمہارا برا اعتقاد تمہیں اس بات پر مجبور کریگا کہ تم اسے گھٹیا وجہ پر محمول کرو حالانکہ اس پر کوئی خاص علامت نہیں پائی جاتی اور یہ باطنی جرم ہے اورہر مومن کے حق میں حرام ہے۔

کیونکہ سرکار دوعالم نبی اکرم  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  نے فرمایا:
اِنَّ اﷲَ قَدْ حَرَّمَ عَلَی الْمُوْمِنِ مِنَ الْمُوْمِنِ دَ مُہ' وَمَالُہ' وَعِرْضُہ' وَاَنْ یَظُنَّ بِہٖ ظَنَّ السُّوْئِ۔
''بے شک اﷲ تعالیٰ نے ایک مومن پر دوسرے مومن کا خون' مال اور عزت نیز اس کے بارے میں برے گمان کو حرام کیا ہے''(التمہید لابن عبد البر جلد ۱۰ ص ۲۳۱)

نیزنبی کریم  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  نے فرمایا:
اِیَّاکُمْ وَالظَّنَّ فَاِنَّ الظَّنَّ اَکْذَبُ الْحَدِیْثِ۔
'' اپنے آپ کو بدگمانی سے بچاؤ کہ بے شک بدگمانی سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے''

(صحیح بخاری جلد اول ص ۳۸۴ کتاب الوصایا)

کیونکہ بدگمانی تَجَسُس کی طرف بلاتی ہے اور نبی اکرم  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  نے فرمایا:
لاَتَجَسَّسُوْا وَلاَ تَقَاطَعُوْا وَلاَ تَدَا بَرُوُا وَکُوْنُوْا عِبَادَاﷲِ اِخْوَانًا۔
''ایک دوسرے کی جاسوسی نہ کرو نہ ایک دوسرے سے قطع تعلق کرو اور نہ ہی ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرو' اوراے اﷲ کے بندو ! بھائی بھائی بن جاؤ'' (صحیح مسلم جلد ۳ ص ۳۱۵ کتاب البروالصلۃ)

دوسروں کی خبریں معلوم کرنا اور آنکھوں سے دوسروں کو جھانکنا ''تجسس'' کہلاتا ہے جبکہ پردہ پوشی اور دوسروں کے عیب سے اپنے آپ کو لاعلم اور غافل رکھنا دیندار لوگوں کا شیوہ ہے اوربرُی بات پر پردہ ڈالنے اور اچھی بات کو ظاہر کرنے کے سلسلے  میں یہ بات کافی ہے کہ دعا میں ان الفاظ کے ساتھ اﷲ تعالیٰ کی صفت بیان کی جاتی ہے ۔کہا جاتا ہے۔
Flag Counter