| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
ایک روایت میں ہے کہ سرکارِ ابد قرار ،شفیع روزِ شمار صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی مجلس میں ایک شخص نے کسی دوسرے آدمی کی تعریف کی ، دوسرے دن اس نے اس کی برائی بیان کی تو نبیِ رحمت انے فرمایا ''کل تم نے اس کی تعریف کی اورآج اس کی برائی بیان کرہے ہو؟'' اس نے عرض کیا' یارسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ! اﷲ (عزوجل) کی قسم ! میں نے کل بھی اس کے بارے میں سچ کہا تھا اور آج بھی جھوٹ نہیں بول رہا، کل اس نے مجھے خوش کیا تو مجھے اس کی جو خوبی معلوم تھی بیان کردی اور آج اس نے مجھے ناراض کیا تو مجھے اس کی جو برائی معلوم تھی میں نے ظاہر کردی اس پر نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض بیان جادو ہوتے ہیں۔ (المستدرک للحاکم جلد ۳ ص ۶۱۳ کتاب معرفۃ الصحابہ) گویا آپ نے اسکی اس پرُ پیچ گفتگو کوجادو سے تشبیہ دی اورنا پسند فرمایا اسی لئے ایک دوسری روایت میں آیا ہے ۔
اَلْبَذَاءُ وَالْبَیَانُ شُعْبَتَانِ مِنَ النِّفَاقِ ۔
''فحش گوئی اورمرصّع گفتگو منافقت کے دوشعبے ہیں '' (مسند امام احمد بن حنبل جلد ۵ ص ۲۶۹ مرویات ابو امامہ) ایک دوسری روایت میں ہے ۔
اِنَّ اﷲ یَکْرَہُ لَکُمْ الْبَیَانَ کُلَّ الْبَیَانِ ۔
''بے شک اﷲ تعالیٰ تمہارے انتہائی درجہ کے بیان کو پسند نہیں کرتا'' گفتگو یا تقریر میں تکلف برتنا اور اپنی معلومات کا خواہ مخواہ اظہار کرنا تاکہ دوسروں پر عملی رعب ڈالا جائے ،قابل مذمت ہے اور اگر کسی شخص کو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے اچھی تقریر کا ملکہ حاصل ہو اور اس کی نیت غلط نہ ہو تو ایسا بیان ممنوع نہیں۔ اسی طرح حضرت سیدنا امام شافعی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے بھی فرمایا ''کوئی مسلمان ایسا نہیں جو ہمیشہ اﷲ تعالیٰ کی اطاعت ہی کرتا ہو اور کبھی اس کی نافرمانی نہ کرتا ہو اور کوئی مسلمان ایسا نہیں جو ہمیشہ اس کی نافرمانی کرتا ہو اور کبھی فرمانبرداری نہ کرے۔ پس جس کی اطاعت اس کی نافرمانیوں پر غالب ہو تو یہ عدل ہے ۔'' میٹھے میٹھے اسلامی بھائيو ! اس مقام پر حضرت سیدنا امام غزالی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )فرماتے ہیں غورکیجئے کہ جب سیدنا امام شافعی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے گناہوں کے مقابلے میں زیادہ نیکیاں کرنے کواﷲ تعالیٰ کے حق میں عدل ٹھہرایا توظاہر ہے کہ تمہارا اسے اپنے حق