اور برائی سے روکنے کے سلسلے میں جو کچھ بیان کرنا اس پر واجب ہو اور خاموشی کی اجازت نہ ہو تو اس صورت میں اس کے برا ماننے کی پرواہ نہ کرے کیوں کہ حقیقتاً یہ اس پر احسان ہے اگر چہ اس کے خیال میں بظاہربرائی ہے ۔
جہاں تک اس کی اور اس کے گھر والوں کی برائیاں اور عیب بیان کرنے کا تعق ہے تو یہ غیبت ہے اور یہ ہرمسلمان کے حق میں حرام ہے اور اس سے دو باتیں روکتی ہیں ۔
ایک یہ تم خود اپنے حالات پر غور کرو اگر ان میں کوئی قابل مذمت بات پاؤ تو جو کچھ اپنے بھائی میں پاتے ہو اسے ناگوار نہ جانو اور یو ں سمجھو کہ وہ اس ایک بات میں اپنے نفس کو قابو کرنے سے تمہاری طرح عاجز ہے اور اس ایک بُری خصلت کی وجہ سے اسے برا نہ سمجھوکیونکہ ایسا آدمی کہاں ہے جو برائی سے خالی ہو اور حقوق خداوندی (عزوجل) کے سلسلے میں جو کام تم خود نہیں کرتے اپنے بھائی سے بھی اس کام کا انتظار نہ کرو کیونکہ اﷲ(عزوجل) کا جس قدر تم پر حق ہے اس پر تمہارا حق اس سے زیادہ نہیں ہے ۔
او ر دوسری بات یہ کہ تم جانتے کہ اگر تم ہر عیب سے پاک آدمی تلاش کروگے تو خود تمہیں مخلوق سے الگ رہنا پڑے گا اور اپنے لئے کوئی ساتھی بالکل نہیں پاؤ گے ۔کیونکہ ہر انسان میں خوبیاں بھی ہوتی ہیں اور بُرائیاں بھی ،جب خوبیاں ،برائیوں پر غالب ہوں تو اس پر اکتفا کریں اور اسے غنیمت جانیں کیونکہ مومن ہمیشہ اپنے بھائی کی خوبیوں کوسامنے رکھتا ہے تاکہ اس کے دل میں اس کا احترام ،عزت اور محبت پیدا ہو ۔لیکن منافق اور کمینہ آدمی ہمیشہ بُرائیاں اور عیب تلاشی کرتا ہے ۔