یہ حق زبان سے متعلق ہے کہ بعض اوقات خاموش رہے اور بعض اوقات گفتگو کرے ۔ جہان تک خاموشی کا تعلق ہے تو اس کی عدم موجودگی میں بھی اور اس کے سامنے بھی اس کے عیب بیان کرنے سے خاموش رہے اوروہ جب گفتگو کرے تواس کوٹھکرانے سے بھی خاموش رہے ،نہ اس کی بات کاٹے اور نہ اس سے جھگڑا کرے ،اس کے عیبوں کی ٹوہ لگانے اور ان کے بارے میں پوچھنے سے بھی خاموشی اختیار کرے جب اسے راستے میں یا کسی کام میں دیکھے تو اس کی غرض کے بارے میں خود بخود نہ پوچھے کہ کہاں سے آرہے ہو او ر کہاں جارہے ہو، کیونکہ بعض اوقات اس کے لئے بیان کرنا مشکل ہوجاتا ہے یا وہ جھوٹ بولنے پر مجبور ہوگا اسی طرح اس کے بھید جواس نے بتائے ہوں ، ان کے بیان سے خاموش رہے اوردوسروں کو نہ بتائے حتی کہ اپنے یا اس کے خاص دوستوں کو بھی نہ بتائے بلکہ جب دوستی ختم ہوجائے اور باہم محبت نہ رہے تب بھی بیان نہ کرے کیونکہ یہ باطنی خباثت او رطبعی کمینگی سے ہے ۔اسی طرح اسکے گھر والوں اور اولاد پر طعنے نہ کسے اور ایسا واقعہ بھی بیان نہ کرے جس میں کسی دوسرے نے اسپر طعن کیا ہوکیونکہ جس نے بات پہنچائی گویا گالی اسی نے دی۔
حضرت سیدنا اَنَس (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں ۔نبی اکرم تاجدارِ مدینہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کسی کے منہ پر وہ بات نہیں کرتے تھے جو اسے نا پسند ہو۔
(سنن ابی داؤد جلد ۲ ص ۳۰۴ کتاب الادب)
اور لڑائی کاآغاز ،پَہُنچانے والے سے ہوتا ہے پھر بات کہنے والے کی طرف سے ، ہاں اس کی جو تعریف کرے اسے چھپانا نہیں چاہیئے کیونکہ خوشی پہلے نقل کرنے والے سے حاصل ہوتی ہے اور پھر تعریف کرنے والے کی جانب سے ،اور اسے چھپانا ایک قسم کا حسد ہے ۔
خلاصہ یہ ہوا کہ ہر اس کلام سے خاموشی اختیار کرے جسے وہ ناپسند کرتا ہے اجمالاً ہو یا تفصیلاً ، ہاں نیکی کا حکم دینے