Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
282 - 325
اکرام میں اضافہ کرنے کی کوشش کرو اسے اپنے رشتہ داروں او ر اولاد پر مقدم رکھو ۔

اولاد سے بڑھ کر : 

حضر ت سیدنا حسن بصری (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے تھے ہمارے اسلامی بھائی ہمیں اپنے اہل و عیال اوراولا د سے بھی زیادہ پسند ہیں کیونکہ ہمارے گھر والے ہمیں دنیا کی یاد دلاتے ہیں اور ہمارے یہ بھائی ہمیں آخرت کی یاد دلاتے ہیں۔

نیزفرماتے ہیں ۔

جو شخص کسی کو اﷲ(عزوجل) کے لئے اپنا ساتھی بناتا ہے اﷲ (عزوجل) قیامت کے دن عرش کے نیچے سے فرشتے مقررفرمائے گا جو جنت تک اس کا ساتھ دیں گے ۔ ایک روایت میں ہے کہ جوشخص شوق کے ساتھ اپنے دینی بھائی کی ملاقات کرتا ہے تو اس کے پیچھے سے ایک فرشتہ آواز دیتا ہے تو نے اچھا کیا اورتیرے لئے جنت واجب ہوئی۔ (جامع الترمذی ص ۲۹۴' ابواب البر)

حضرت سیدنا عطا (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں تین دن بعد دوستوں کی خبر گیری کرو،اگر وہ بیمار ہوں تو ان کی عیادت کرو، کسی کام میں مشغول ہوں تو ان کی مدد کرو اور اگر وہ بُھول گئے ہوں تو انہیں یاد دلاؤ۔

ایک روایت میں ہے حضرت سیدنا عبد اﷲ بن عمررضی اﷲ عنھمارسول اکرم  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے اور دائیں بائیں دیکھ رہے تھے آپ  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے استفسار فرمایا تو انہوں نے عرض کی میں ایک شخص سے محبت کرتا ہوں اوراسے تلاش کررہا ہوں لیکن وہ نظر نہیں آتا ۔آپ  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ''جب تم کسی سے محبت کرو تو اس کا نام اور اس کے باپ کا نام پوچھو اور اس کے گھر کا پتہ معلوم کرو اگر و ہ بیمار ہو تواس کی بیمارپرسی کرو اور اگر وہ کسی کام میں مشغول ہوتو اس کی مدد کرو'' ۔ایک روایت میں ہے اس کے دادا اور خاندان کے بارے میں پوچھو۔

                     (کنز العمال جلد ۹ ص ۳۶ حدیث ۲۴۸۰۹)

حضرت سیدناشعبی(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ ) فرماتے ہیں اگرایک آدمی دوسرے آدمی سے ملاقات کرتاہے اورپھر بھی بعد میں کہتا ہے میں اسے چہرے سے جانتا ہوں لیکن مجھے اس کا نام معلوم نہیں تو یہ بیوقوفوں والی شناسائی ہے ۔گویا نام وغیرہ معلوم کرنا ضروری ہے حضرت ابنِ عباس رضی اﷲتعالیٰ عنہا سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سے کون شخص آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کو زیادہ پسند ہے انہو ں نے فرمایا میرا ہمنشین کہ جو شخص میری مجلس میں تین بار کسی کام کے بغیر آتا ہے تو میں جان لیتا ہوں کہ میں دنیا میں اس کا بدلہ نہیں دے سکتا ۔

حضرت سعید بن علا (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کے بقول ''میرے ہمنشین کے مجھ پر تین حق ہیں جب وہ میرے قریب ہوتو میں اسے