Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
281 - 325
کوشش نہ کرے تو نماز کی طرح کا وضُو کرو اور اس پر چار تکبیریں پڑھو اور اسے مُردوں میں شمار کرو۔ ''

حضرت سیدنا جعفر بن محمد(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ ) سے منقول ہے ''میں اپنے دشمنوں کی حاجات کو پورا کرنے میں جلدی کرتا ہوں کیونکہ مجھے ڈر ہوتا ہے کہ کہیں میرے دیر کرنے کی وجہ سے وہ مجھ سے بے نیاز نہ ہوجائیں ۔''

یہ تو دشمنوں کے ساتھ معاملہ ہے دوستوں کے ساتھ کیا صورت ہوگی ؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائيو !بزرگوں (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) میں ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے دوست کی وفات کے بعد چایس سال تک ان کے اہل و عیال کی خبر گیری کرتے رہے ، وہ ان کی ضرورتوں کوپورا کرتے ، روزانہ ان کے پاس جاتے اور اپنے مال سے ان کی پرورش کرتے یوں وہ یتیم بچے صرف اپنے باپ کونہیں دیکھ سکتے تھے ورنہ جو کچھ وہ اس کی زندگی میں نعمتیں پاتے تھے اب بھی وہ چیزیں دیکھتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ ۔

اور ایک بزرگ اپنے دینی بھائی کے دروازے پر آتے جاتے اور یوں پوچھتے کیا تمہارے پاس زیتون ہے ؟ کیا تمہارے پاس نمک ہے ؟ کیا تمہیں کوئی حاجت ہے ؟ اور وہ اس طرح ان کی ضرورتوں کو پورا کرتے کہ ان کے پاس دینی بھائی کو علم نہ ہوتا۔ اس سے شفقت اوراخوت ظاہر ہوتی ہے۔ 

میٹھے میٹھے اسلامی بھائيو !اگر شفقت کا نتیجہ یوں نہ نکلے کہ وہ جس طرح اپنے اوپر شفقت کرتا ہے اپنے دوست پربھی اسی طرح شفیق ہوتو اس اخوت میں کوئی بھلائی نہیں ۔ حضرت میمون بن مہران فرماتے ہیں جس کی دوستی تمہیں نفع نہ دے اس کی دشمنی تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ 

رسولِ اکرم نورمجسم  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  نے فرمایا:

''سنو ! زمین میں اﷲ (عزوجل) کے کچھ برتن ہیں اور وہ دل ہیں ۔اور اﷲ (عزوجل)کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ وہ دل ہے جو سب سے زیادہ پاک ، زیادہ مضبوط اورزیادہ نرم ہے'' ۔ (کنزالعمال جلد اول ص ۳۴۱ حدیث ۱۲۰۷)

مطلب یہ ہے کہ وہ گناہوں سے پاک ، دین میں زیادہ مضبوط اوربھائیوں پر زیادہ نرم ہیں ۔

اس تمام بحث کاخلاصہ یہ ہے کہ تمہارے بھائی کی حاجت تمہاری اپنی حاجت کی طرح قرار پائے یا اس سے بھی زیادہ اہم ہو ، اس کے اوقاتِ حاجت کا خیال رکھو اوراس کے حالات سے غافل نہ ہوجیسے تم اپنی حالت سے غافل نہیں ہوتے اور اسے سوال کرنے اور اظہارِ حاجت کی ضرورت نہ پڑے بلکہ تم اس کی ضرورت اس طرح پوری کرو گویا تمہیں علم ہی نہ ہو کہ تم نے اسے پور ا کیا ہے اورپھر اس کے باعث اس پر کوئی احسان مت جتاؤبلکہ اس کے احسان مند رہو کہ اس نے تمہاری کوشش کو قبول کیا ۔بلکہ مناسب نہیں کہ تم صرف اس کی حاجت کو پورا کرنے پر اکتفا کرو بلکہ اپنی طرف سے اس کے اعزاز و