| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
ترجمہ کنزالایمان ''یا اپنے دوست کے یہاں'' (پارہ نمبر ۱۸سوره نور آیت ۶۱) اور فرمایا :
اَوْ مَا مَلَکْتُمۡ مَّفَاتِحَہٗۤ
ترجمہ کنزالایمان '' یا جہاں کی کنجیاں تمہارے قبضہ میں ہیں'' (پارہ نمبر ۱۸' سوره نور آیت ۶۱) کیونکہ دستور یہ تھا کہ ایک آدمی اپنے گھر کی چابیاں اپنے دینی بھائی کو دے کر اسے اختیار دیتا وہ جس طرح چاہے تصرف کرے لیکن اس کا بھائی تقویٰ کی بنیاد پرکھانے میں حرج سمجھتا یہاں تک کہ اﷲ (عزوجل) نے یہ آیت نازل فرمائی اور انہیں اپنے مسلمان دینی بھائیوں اور دوستوں کے کھانے میں بے تکلفی کی اجازت دے دی ۔
دوسرا حق :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائيو ! دوسرا حق یہ ہے کہ سوال کرنے سے پہلے اس کی ضروریات اور حاجات کو پورا کرنے میں اس کی عملی طور پر مدد کرے اور اپنی حاجات سے انہیں مقدم رکھے ، غمخواری کی طرح اس کے بھی کئی درجات ہیں جن میں سے سب سے کم درجہ یہ ہے کہ سوال کرنے اور طاقت ہونے کے وقت اس کی حاجت کو پورا کرے اور یہ کام خوشی خوشی کرے اور اس کا احسان مندبھی ہو۔
جنازہ پڑھو :
بعض بزرگوں نے فرمایا '' جب تم کسی بھائی سے اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے کہو اور و ہ اسے پورا نہ کرے تو دوبارہ ذکر کرو کیونکہ ہوسکتا ہے و ہ بھول گیا ہو اور اگر پھر بھی باوجود قدرت کے محض لاپروائی کی وجہ سے پورا نہ کرے تو تم اس کا جنازہ پڑھو ''(یعنی اسے مردہ کی طرح سمجھو)پھر انہو ں نے یہ آیت کریمہ پڑھی ۔
وَ الْمَوْتٰی یَبْعَثُہُمُ اللہُ
ترجمہ کنزالایمان ''اور ان مردہ دلوں کو اﷲ (عزوجل) اٹھائے گا'' (پارہ نمبر۷'سوره انعام آیت ۳۶) حضرت سیدنا شبرمہ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )نے اپنے ایک دینی بھائی کی ایک بہت بڑی حاجت کو پورا کیا تو وہ ایک تحفہ لے کر آیا ، انہوں نے پو چھا یہ کیا ہے ؟ اس نے کہا آپ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )نے جو مجھ سے حسن سلوک کیا ہے اس کا بدلہ ہے ۔ انہوں نے جواب دیا ''اﷲ (عزوجل) تمہیں معاف کرے اپنا ما ل لے جاؤ ۔ جب تم کسی دوست سے حاجت برآری چاہو اوروہ اسے پورا کرنے کی