ٹیڑھی تھی اور دوسری سیدھی ، آپ نے سیدھی مسواک اپنے صحابی(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ ) کو دے دی انہوں نے عرض کیا یارسول اﷲ(صلي اللہ تعالي عليہ وسلم) !اﷲ (عزوجل) کی قسم آپ(صلي اللہ تعالي عليہ وسلم) سیدھی مسواک کے زیادہ مستحق ہیں آپ ا نے فرمایا ''جب بھی کوئی شخص کسی کی رفاقت اختیار کرتا ہے اگر چہ دن کی ایک ساعت ہوتو قیامت کے دن اس رفاقت کے بارے میں سوال کیا جائے گا کہ آیا اس میں اﷲ (عزوجل) کا حق قائم کیا یا اسے ضائع کردیا ''۔ (الاحادیث الضعیفہ والموضوعۃ جلد اول ۱۵۶ حدیث ۱۲۴)
تو آپ نے اس بات سے اشارتًا بتایا کہ دوسرے کو ترجیح دینا اﷲ (عزوجل) کے حق کو قائم کرنا ہے۔
اسی طرح ایک مرتبہ نبی اکرم رحمتِ عالمیان (صلي اللہ تعالي عليہ وسلم) ایک کنویں کی طرف تشریف لے گئے تاکہ وہاں غسل فرمائیں حضرت سیدنا حذیفہ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کپڑا لے کر کھڑے ہوئے اورآپ (صلي اللہ تعالي عليہ وسلم)کے لئے پرد ہ کرنے لگے حتی کہ آپ ا نے غسل فرمالیا پھر جب حضرت سَیِّدُنا حذیفہ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) غسل کرنے بیٹھے تو آپ (صلي اللہ تعالي عليہ وسلم) نے کپڑا پکڑ لیا اور لوگوں سے آڑ کرنے لگے تو حضرت سیدنا حذیفہ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے انکار کردیا او رعرض کیا میرے ماں باپ آپ(صلي اللہ تعالي عليہ وسلم) پر قربان ہوں یارسول اﷲ(صلي اللہ تعالي عليہ وسلم) ! آپ( )زحمت نہ کیجئے۔ لیکن نبی اکر م شہنشاہِ ابرار (صلي اللہ تعالي عليہ وسلم) نے یہ بات ماننے سے انکار کردیا اورآڑ کئے رہے حتی کہ انہوں نے غسل کرلیا ۔
رسول اکرم صاحبِ جود وکرم (صلي اللہ تعالي عليہ وسلم) نے فرمایا :