Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
279 - 325
ٹیڑھی تھی اور دوسری سیدھی ، آپ نے سیدھی مسواک اپنے صحابی(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ ) کو دے دی انہوں نے عرض کیا یارسول اﷲ(صلي اللہ تعالي عليہ وسلم) !اﷲ (عزوجل) کی قسم آپ(صلي اللہ تعالي عليہ وسلم) سیدھی مسواک کے زیادہ مستحق ہیں آپ ا نے فرمایا ''جب بھی کوئی شخص کسی کی رفاقت اختیار کرتا ہے اگر چہ دن کی ایک ساعت ہوتو قیامت کے دن اس رفاقت کے بارے میں سوال کیا جائے گا کہ آیا اس میں اﷲ (عزوجل) کا حق قائم کیا یا اسے ضائع کردیا ''۔ (الاحادیث الضعیفہ والموضوعۃ جلد اول ۱۵۶ حدیث ۱۲۴)

تو آپ  نے اس بات سے اشارتًا بتایا کہ دوسرے کو ترجیح دینا اﷲ (عزوجل) کے حق کو قائم کرنا ہے۔

اسی طرح ایک مرتبہ نبی اکرم رحمتِ عالمیان (صلي اللہ تعالي عليہ وسلم) ایک کنویں کی طرف تشریف لے گئے تاکہ وہاں غسل فرمائیں حضرت سیدنا حذیفہ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کپڑا لے کر کھڑے ہوئے اورآپ (صلي اللہ تعالي عليہ وسلم)کے لئے پرد ہ کرنے لگے حتی کہ آپ ا نے غسل فرمالیا پھر جب حضرت سَیِّدُنا حذیفہ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) غسل کرنے بیٹھے تو آپ (صلي اللہ تعالي عليہ وسلم) نے کپڑا پکڑ لیا اور لوگوں سے آڑ کرنے لگے تو حضرت سیدنا حذیفہ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے انکار کردیا او رعرض کیا میرے ماں باپ آپ(صلي اللہ تعالي عليہ وسلم) پر قربان ہوں یارسول اﷲ(صلي اللہ تعالي عليہ وسلم) ! آپ(  )زحمت نہ کیجئے۔ لیکن نبی اکر م شہنشاہِ ابرار (صلي اللہ تعالي عليہ وسلم) نے یہ بات ماننے سے انکار کردیا اورآڑ کئے رہے حتی کہ انہوں نے غسل کرلیا ۔

رسول اکرم صاحبِ جود وکرم (صلي اللہ تعالي عليہ وسلم) نے فرمایا :
مَا اِصْطَحَبَّ اثْنَانِ قَطُّ اِلَّا کَانَ اَحَبُّھُمَا اِلَی اﷲِ اَرْفَقَھُمَا ۔
'' جب دو آدمی ایک دوسرے کے ساتھی بنتے ہیں تو ان میں سے جو زیادہ نرمی کرنے والا ہوتا ہے وہ اﷲ (عزوجل) کو زیادہ پسندہوتا ہے'' (المستدرک للحاکم جلد ۴ ص ۱۷۱ کتاب البروالصلۃ)
اورایک روایت میں ہے کہ حضرت سیدنا مالک بن دینار اور حضرت سیدنا محمد بن واسع (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) حضرت سیدنا حسن بصری (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کے گھر گئے اور وہ موجود نہیں تھے۔ حضرت سیدنا محمد بن واسع (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے حضرت سیدنا حسن بصری (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کی چار پائی کے نیچے سے ایک ڈبہ نکا لا جس میں کھانا تھا پھر کھانا کھانے لگے حضرت سیدنا مالک (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے فرمایاکہ گھر والے کو تو آنے دو لیکن وہ نہ رکے اور کھاتے رہے جب حضرت سیدناحسن (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) تشریف لائے تو فرمایا بھائی مالک ! اسی طرح ہوتا تھا ہم ایک دوسرے سے تکلف نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ آپ اورآپ کے زمانے کے لوگ پیدا ہوئے۔

گویا انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ دوستوں کے گھروں میں بے تکلفی اخوت و محبت کے خالص ہونے کی دلیل ہے اور یہ کیسے نہیں ہوگا جب کہ اﷲ (عزوجل) نے فرمایا:
Flag Counter