حضرت سیدنا عمر (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں ''رسولِ اکرم نور مجسم شاہِ بنی آدم ا کے کسی صحابیص کو بکری کا سربطور تحفہ پیش کیا گیا انہوں نے سوچامیرا فلاں بھائی مجھ سے زیادہ محتاج ہے چنانچہ ان کی طرف بھیجا پھر وہ ایک سے دوسرے تک ، دوسرے سے تیسرے تک بھیجتے رہے یہاں تک سات گھروں سے ہو کر وہ سرپہلے آدمی تک واپس آگیا'' ۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت سیدنا مسروق (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )نے بھاری قرض لیا اور ان کے دوست حضرت خیثمہ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ ) مقروض تھے چنانچہ حضرت سیدنا مسروق (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے ان کی لاعلمی میں ان کا قرض ادا کردیا اُدھر حضرت سیدنا خیثمہ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے حضرت سیدنا مسروق (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کا قرض ادا کردیا اورانہیں پتہ نہ چلا۔
جب سرکار دوعالم نورمجسم (صلي اللہ تعالي عليہ وسلم)نے حضرت سیدنا عبد الرحمن بن عوف (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) اور حضرت سیدنا سعد بن ربیع (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کے درمیان اخوت قائم کی تو حضرت سیدنا سعد (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے اپنے مال و جان میں انہیں اختیار دے دیا ۔ حضرت سیدنا عبد الرحمن (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )نے فرمایا اﷲ (عزوجل) آپ کو ان دونوں چیزوں میں برکت عطافرمائے۔ (صحیح بخاری جلد اول ص ۵۳۳ کتاب المناقب)
حضرت ابو سلیمان دارانی رحمۃ اﷲ تعالیٰ نے کیا خوب ارشاد فرمایا ''اگر تمام دنیا میرے لئے ہوجاتی اور میں اسے اپنے مسلمان بھائی کے منہ میں ڈال دیتا تو میں اسے کم سمجھتا ''انہوں نے ہی فرمایا کہ میں اپنے کسی اسلامی بھائی کو لقمہ کھلاتا ہوں تو اس کا ذائقہ اپنے حلق میں محسوس کرتا ہوں ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! فقراء کو صدقہ دینے کی نسبت اپنے دینی بھائیوں پر خرچ کرنا افضل ہے ۔