Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
277 - 325
چنانچہ حضرت سیدنا فتح موصلی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) اپنے ایک اسلامی بھائی کے گھر آئے تو وہ موجود نہ تھا آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے اس کی بیوی کو حکم دیا تووہ صندوق لے آئیں ۔ آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے اُس میں سے ضرورت کی اشیاء لیں (اور چل دیئے ) لونڈی نے اپنے مالک کو خبر دی تو اُس نے خوش ہو کر کہا اگر تونے سچ کہا ہے تو تُو اﷲ (عزوجل) کی خاطر آزاد ہے ۔

گویا انہوں نے اس عمل پر خوشی ہوکریہ کام کیا۔

ایک شخص حضرت سیدنا ابو ہریرہ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں اﷲ (عزوجل) کے لئے آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کواپنا بھائی بنا نا چاہتا ہوں انہوں نے فرمایا تم جانتے ہو بھائی چارے کا حق کیا ہے ؟ اس نے عرض کیا آپ بتادیجئے۔ آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )نے فرمایا کہ تو اپنے دینار اور درہم کا مجھ سے زیادہ حق دار نہ ہوگا۔ اس نے عرض کی میں ابھی تک اس مقام تک نہیں پہنچا ۔آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے فرمایا پھر چلے جاؤ ۔

اسی طرح حضرت سیدنا علی بن حسین رضی اﷲعنہم نے ایک شخص سے پوچھا کیا تم میں سے کوئی ایک اپنا ہاتھ اپنے بھائی کی آستین یا جیب میں ڈال کر جوکچھ لینا چاہے اس کی اجازت کے بغیر لے سکتا ہے ؟اس نے کہا نہیں اس پرانہوں نے فرمایا'' پھر تم ایک دو سرے کے بھائی نہیں ہو ۔''

حضرت سیدنا ابراہیم بن ادھم (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) بیت المقدس کی طرف جارہے تھے کہ ایک شخص نے حاضر ہوکر عرض کیا میں بھی آپ علیہ الرحمۃ کی رفاقت اختیار کرنا چاہتاہوں ' حضرت سیدنا ابراہیم (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے فرمایا'' اس شرط پر کہ میں تمہاری چیز کا تم سے زیادہ مالک ہوں گا''۔ اس نے کہا ایسا نہیں ہوسکتا ۔آپ علیہ الرحمۃ نے فرمایا ''مجھے تمہاری سچائی پر تعجب ہوا ہے ۔''
سخاوت کرو :
راوی کہتے ہیں کہ جب کوئی شخص حضرت سیدنا ابرایم بن ادھم (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کی رفاقت اختیار کرتا تو وہ آپ علیہ الرحمۃ کی مخالفت نہ کرتا او ر آپ علیہ الرحمۃ اس کو ساتھی بناتے تھے جو آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کی مرضی کے موافق ہو۔ایک مرتبہ ایک تسمے بنانے والا آپ علیہ الرحمۃ کا ساتھی بن گیا توراستے میں ایک شخص نے ثرید کا ایک پیالہ حضرت سیدنا ابراہیم بن ادھم (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کی خدمت میں بطور تحفہ پیش کیا آپ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ ) نے اپنے ساتھی کی تھیلی کو کھولا اور تسموں کی ایک مُٹھی بھر کر پیالے میں ڈال دی اور وہ پیالہ تحفہ پیش کرنے والے کو واپس کردیا۔ جب آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )کا رفیق سفر آیا تو پو چھا تسمے کہاں ہیں ؟ انہوں نے فرمایا تم نے یہ ثرید جو کھائی ہے یہ کیا تھی ؟ ا س نے کہا تو آپ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ ) دو یا تین تسمے دے دیتے اتنے سارے کیوں دے ڈالے آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )نے فرمایا ''سخاوت کرو تمہیں کشادہ دیا جائے گا ''۔ ایک مرتبہ آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ )نے ایک پیدل آدمی کو اپنے رفیقِ سفر کا گدھا اس کی اجازت کے بغیر دے
Flag Counter