اخوت کا یہ عالم تھا کہ ایک اسلامی بھائی اپنی چادر اپنے اور اپنے بھائی کے درمیان تقسیم کرنے کے لئے پھاڑ دیتا تھا ۔
(۳) تیسرا درجہ جو سب سے بلند ہے وہ یہ ہے کہ تم اسے اپنے اوپر ترجیح دواور اس کی حاجت کو اپنی حاجت پر مقدم کرویہ صدیقین کا رتبہ ہے اور باہم محبت کرنے والوں کے درجات کی انتہاء ہے ۔اس رتبہ کے نتائج میں سے ایک بات یہ ہے کہ انسان اس پر اپنے نفس کو بھی قربان کرنے پر تیار ہوجائے ۔جیسا کہ مروی ہے کہ صوفیاء رحمہم اﷲ کی ایک جماعت کو کسی بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا تو اس نے ان کی گردنیں مارنے کا حکم دیا۔ ان میں حضرت سیدنا ابو الحسین نوری بھی تھے وہ جلدی جلدی جلا دکے سامنے ہوگئے تاکہ سب سے پہلے انہیں قتل کیا جائے ان سے اس سلسلے میں پوچھا گیا توانہوں نے میں چاہتا ہوں کہ اس وقت دوسرے بھائیوں کی زندگی کو ترجیح دوں ۔یہ ایک طویل واقعہ ہے ۔اوران کا یہ قول ان تمام کی نجات کا باعث بنا۔ اور اگر تم اپنے مسلمان بھائی کو ان مراتب میں سے کسی رتبے میں بھی نہیں سمجھتے تو جان لوکہ عقدِ اخوّت ابھی تک دل میں منعقد نہیں ہوا ۔اور تمہارے درمیان محض رسمی میل جول جاری ہے جس کی عقل اور دین میں کوئی وقعت نہیں ہے ۔
حضرت سیدنا میمو ن بن مہران (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں ۔
جو شخص اپنے مسلمان بھائیوں کو فضیلت دینے پر راضی نہیں اسے اہل قبور سے بھائی چارہ قائم کرنا چاہئے ۔ اور جہاں تک سب سے کم درجے کا تعلق ہے تو دیندار لوگوں کے نزدیک یہ بھی پسندیدہ نہیں ہے ۔
حضرت سیدنا ابو حازم (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں ۔
جب تمہارا کوئی دینی بھائی ہوتو اس سے دنیاوی امور کا معاملہ نہ کرو ۔تو ان کی مراد یہ ہے کہ جواس ادنیٰ درجہ میں ہو جبکہ جہاں تک سب سے بلند درجے کا تعلق ہے تو اﷲ (عزوجل) نے مومنوں کو اس کے ساتھ موصوف شمار کیا۔
چنانچہ ارشاد خداوندی (عزوجل) ہے :