Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
275 - 325
دوسرا باب

                   اخوت و محبت کے حقوق :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! سیدنا امام غزالی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) اخوت و محبت کے حقوق کی سلسلے میں کچھ اس طرح رقم طراز ہیں۔

بھا ئی چارہ دو آدمیوں کے درمیان ایک رابطہ ہوتا ہے جیسے نکاح میاں بیوی کے درمیان ایک رابطے کا نام ہے اور جس طرح عقدنکاح کچھ حقوق کا تقاضا کرتاہے۔ جن کو پورا کرنا حقِ نکاح قائم رکھنے کیلئے ضروری ہے ٹھیک اسی طرح عقدِ اخوّت کا بھی یہی حال ہے۔تو تمہارے اسلامی بھائی کا تمہارے مال اور تمہاری ذات میں حق ہے' اسی طرح زبان او ر دل میں بھی کہ تم اس کو معاف کرو، اس کے لئے دعا کرو، اخلاص و وفا سے پیش آؤ ،اس پر آسانی برتو اور تکلیف و تکلف کو چھوڑ دو یہ کل آٹھ حقوق ہیں ۔
پہلا حق :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! یہ حق مال سے متعلق ہے جیسا کہ نبی اکرم شاہ ِ بنی آدم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ''دو آدمیوں کی مثال دوہاتھوں جیسی ہے کہ ان میں سے ایک ہاتھ ، دوسرے کو دھوتا ہے'' ۔ (الفردوس بماثور الخطاب جلد ۴حدیث ۶۴۶۱)

تو آپ ا نے انہیں دو ہاتھوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے ایک ہاتھ اور ایک پاؤں کے ساتھ نہیں کیونکہ یہ دونوں ایک غرض پر ایک دوسرے کا تعاون کرتے ہیں۔ تو جس طرح دو بھائیوں کا بھائی چارہ اس وقت مکمل ہوتا ہے جب وہ ایک مقصد میں ایک دوسرے کے رفیق بنیں تو یہ دونوں ایک اعتبار سے ایک ذات کی طرح ہیں۔ اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ خوشی اور تکلیف دونوں حالتوں میں ایک دوسرے کے حصے دارہوں اور حال ومستقبل میں ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہوں اور دونوں میں سے کسی ایک کو خصوصیت اور ترجیح نہ رہے۔ بہرحال اخوت کے ساتھ مالی طور پر غمخواری کی تین قسمیں ہیں ۔

(۱) سب سے ادنیٰ مرتبہ یہ ہے کہ تم اسے اپنے غلام یا خادم کی طرح سمجھو اور جب اسے کوئی حاجت درپیش ہو تو اپنے زائد مال سے اس کی ضرورت کو پورا کرو اور اگر تمہارے پاس ضرورت سے زیادہ مال ہوتوتم خود اسے دے دو اور اسے سوال کرنے پر مجبور نہ کرو کیونکہ اگر تم اسے مانگنے پر مجبور کرو گے تو یہ حقِ اخوّت میں انتہائی درجہ کی کوتا ہی ہے ۔

(۲) دوسرا درجہ یہ ہے کہ تم اسے اپنی طرح سمجھو اور اسے اپنے مال میں شریک کرنے اور اسے اپنی طرح سمجھنے پر راضی رہو حتی کہ تم اسے نصف مال دینا گوارہ کر لو چنانچہ حضرت سیدنا حسن بصری (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں کہ اسلاف کی آپس میں
Flag Counter