Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
273 - 325
جلدی ختم ہوجاتا ہے اور کوئی اس درخت کی طرح ہیں جن کا پھل ہوتا ہے لیکن سایہ نہیں ہوتا یہ اس شخص کی مثال ہے جو آخرت کے لئے اصلاح کرتا ہے دنیا کے لئے نہیں ۔ اور تیسری قسم کے لوگ ان درختوں کی جن کے پھل اور سایہ دونوں چیزیں ہوتی ہیں ۔اور ان تینوں کے علاوہ وہ ہیں جن میں ان دونوں میں سے ایک بات بھی نہیں ہوتی جیسے ببول کا درخت جو کپڑے پھاڑتا ہے ان میں کھانے کی کوئی چیز ہے اور نہ پینے کی ۔ جیسا کہ حیوانات میں سے چوہا اور بچھو۔

چنانچہ ارشاد خداوندی (عزوجل) ہے :
یَدْعُوْ لِمَنْ ضَرُّہ' اَقْرَبُ مِنْ نَفْعِہٖ لَبِئْسَ الْمَوْلیٰ وَلَبِئْسَ الْعَشِیْرُ ۔
ترجمہ کنز الایمان'' ایسے کو پوجتے ہیں جس کے نفع سے نقصان کی توقع زیادہ ہے بیشک کیا ہی برا مولا اور بیشک کیا ہی برا رفیق '' 

(پارہ نمبر۱۷'سورہ حج آیت ۱۳)

کسی شاعر نے کہا ۔ 

لوگ مختلف ذائقوں والے ہیں ایک جیسے نہیں جیسے درخت ایک جیسے نہیں ہوتے ایک درخت کا پھل میٹھا ہوتا ہے اور دوسرے کا نہ ذائقہ ہے نہ پھل ''۔

لہٰذا جب تمہیں ایسا دوست نہ ملے جس کو تم اپنا بھائی بناؤ اوران مقاصد میں سے کوئی مقصد اس سے حاصل کرو تو تنہائی زیادہ بہتر ہے ۔

حضرت سیدنا ابوذر (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں بُرے ساتھی سے تنہائی بہترہے اورنیک ساتھی تنہائی سے اچھا ہے۔یہ حدیث مرفوعًا مروی ہے (یعنی حضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ۔اورجہاں تک دیانت کے ہونے اورفسق کے نہ ہونے کاتعلق ہے اﷲ (عزوجل) نے ارشاد فرمایا ۔
وَاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ۔
ترجمہ کنز الایمان '' اور اس کی راہ چل جو میری طرف رجوع لایا '' (پارہ نمبر۲۱' سوره لقمان آیت ۱۵)
گنا ہگا روں کو د یکھنے کا وبال :
گناہ اور گناہگاروں کو دیکھنے سے دل میں گناہ سے نفرت ختم ہوجاتی ہے اور گناہ کرنا ہلکا معلوم ہوتا ہے ۔

چنانچہ حضرت سیدنا سعید بن مسیب (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے فرمایا:

ظالموں کو مت دیکھو تمہارے نیک اعمال ضائع ہوجائیں گے اور ان لوگوں کے ساتھ میل جول میں کوئی سلامتی
Flag Counter