حضرت سیدنا جنید رحمۃ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں ''میرے پاس اگر خوش اخلاق فاسق بیٹھتے تو یہ اس بات سے بہتر ہے کہ بد اخلاق قاری (عالم) بیٹھے ۔''
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اس فرمان کا مقصد بد اخلاقی کی برائی بیان کرنا ہے یہ مطلب نہیں کہ انسان فاسقوں کی صحبت میں بیٹھنا شروع کردے۔
حضرت سیدنا ابن ابی الحواری (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں میرے استاد حضرت سیدنا ابو سلیمان (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے مجھ سے فرمایا'' اے احمد! دو آدمیوں سے ایک کی مجلس اختیار کر ان کے علاوہ کسی کی نہیں ایک وہ شخص کہ تو اپنے دنیاوی معاملات میں اس سے فائدہ حاصل کرے اور دوسرا وہ آدمی جس سے تو اپنی آخرت کے معاملات میں نفع اٹھائے ان دو باتوں کے علاوہ کسی بات میں مشغول ہونا بیوقوفی ہے ''۔
حضرت سیدنا سہل بن عبد اﷲ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں ''تین قسم کے لوگوں کی مجلس سے اجتناب کرو غافل متکبر ، منافق قاری (عالم ) اور جاہل صوفی'' ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ تو صاف ظاہر ہے کہ یہ کلمات صحبت کے تمام مقاصد کا احاطہ نہیں کرتے ۔
بہرحال جو باتیں دینوی مقاصد کے سلسلے صحبت کے لئے شرط ہیں وہ آخرت کی دوستی اور بھائی چارے کے سلسلے میں شرط نہیں جیسے حضرت سیدنا بشر (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے فرمایا ۔
تین بھائی :
بھائی تین قسم کے ہوتے ہیں ایک جو تیری آخرت کے لئے بھائی ہے ، دوسرا دنیاوی معاملات کے لئے اور تیسرا اس لئے کہ تواس سے مانوس ہو ۔اور ایک ہی شخص سے یہ تمام مقاصد بہت کم حاصل ہوتے ہیں ۔ بادشاہ مامون نے کہا کہ بھائی تین قسم کے ہوتے ہیں۔ان میں سے ایک غذا کی مثل ہوتا ہے جس سے آدمی بے نیاز نہیں ہوسکتا ، دوسرا دوائی کی مثل ہوتا ہے جس کی ضرورت کسی وقت ہوتی ہے اور کسی وقت نہیں اور تیسرا بیماری کی طرح ہوتا ہے جس کی ضرورت کبھی نہیں ہوتی لیکن بعض اوقات انسان اس میں مبتلا ہوتا ہے ۔ اور یہ وہ ہے جس سے نہ تو اُنس حاصل ہوتا اور نہ نفع ۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمام انسانوں کی مثال درخت اور سبزی کی طرح ہے ان میں سے کسی کا سایہ ہے لیکن پھل نہیں اور یہ اس شخص کی مثال ہے جس سے دنیاوی فائدہ حاصل ہوتا ہے اُخروی نہیں ۔کیونکہ دنیا کا نفع سائے کی طرح ہے جو بہت