ابن اکثم (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے فرمایا کہ ایک مرتبہ بادشاہ مامون نے کہا ایسا آدمی کہاں ہے ؟ تو اسے کہا گیا آپ کو معلوم ہے کہ حضرت علقمہ نے اتنی شرطیں کیوں لگائیں ہیں ؟ اس نے کہا مجھے معلوم نہیں' کہاں اس لئے کہ انہوں نے چاہا کہ کوئی شخص کسی کی صحبت اختیار ہی نہ کرے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اہل ادب میں سے کسی نے کہا لوگوں میں سے اس آدمی کی دوستی اختیار کرو جو تمہارے راز کو چھپائے اور عیب پر پردہ ڈالے چنانچہ ایسا شخص مشکلات میں تمہارا ساتھ دے گا اور عمدہ چیزوں میں تمہیں ترجیح دے گا۔ تیری نیکیوں کو پھیلائے گا اور برائیوں کو چھپائے گا اور اگر ایسا انسان نہ ملے تو تنہا رہو کسی کی صحبت اختیار نہ کرو۔
اسی طرح شہنشاہ ولایت خلیفہ چہارم حضرت سیدنا علی المرتضیٰ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے فرمایا۔
''تمہارا سچا دوست وہ ہے جوجائز امور میں تمہارا ساتھ دے اور تمہیں نفع پہنچانے کے لئے اپنا نقصان برداشت کرلے ۔جب تمہیں کوئی آزمائش پہنچے تو وہ تمہارا ساتھ نہ چھوڑے اور تمہارے معاملات کو درست کرنے کے لئے خود پریشانی اٹھائے ۔''
یونہی بعض علماء (رحمہم اﷲ) فرمایا کرتے تھے ''دو آدمیوں میں سے ایک کی صحبت اختیار کرو ایک وہ شخص جس سے تم کو ئی دینی بات سیکھو جوتمہیں نفع دے یا وہ شخص جسے تم کوئی دینی بات سکھاؤ تو وہ تم سے قبول کرے اور تیسر ے آدمی سے بھاگو'' ۔
اور بعض علماء (رحمہم اﷲ)نے فرمایا کہ انسان چار قسم کے ہیں ۔ایک وہ جو مکمل طور پر میٹھا ہے اس سے سیری حاصل نہیں ہوتی دوسرا مکمل طور پر کڑوا ہے تو اس سے بالکل نہیں کھایا جاتا تیسرا وہ ہے جو کھٹامیٹھا ہے تو اس سے جائز فوائد حاصل کرو اس سے پہلے کہ وہ تمہیں کچھ نقصان پہنچائے 'چوتھا وہ ہے جو نمکین ہو اس سے بوقت ضرورت ہی ملاقات کرو ۔
حضرت سَیِّدُنا امام جعفر صادق (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں ۔
''پانچ قسم کے آدمیوں کی مجلس اختیار نہ کروایک وہ شخص جو بہت جھوٹ بولتا ہے کیونکہ اس سے تم دھوکہ کھاؤ گے وہ اس سراب کی طرح ہے جو دھوپ میں دور پانی نظر آتا ہے جب قریب جائیں تو کچھ نہیں ہوتا وہ تجھے سبز باغ دکھائے گا اور تیرے فائدے کی بات نہیں کریگا ۔الاماشاء اﷲ
دوسرا وہ جو بیوقوف ہو کیونکہ اس سے تمہیں کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا ۔وہ تمہیں نفع پہنچانا چاہے گا لیکن نقصان پہنچائے گا۔ تیسرا بخیل آدمی کہ جب تمہیں اس کی زیادہ ضرورت ہوگی وہ دوستی ختم کردے گا ۔چوتھا بزدل کہ مشکل وقت میں تمہیں چھوڑ کر بھاگ جائے گا ۔ پانچواں فاسق کہ وہ تمہیں ایک لقمے یا اس سے بھی کم قیمت پر بیچ دے گا ۔ ''