(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے فرمایا۔
''بے وقوف کے چہرے کو دیکھنا ایک گناہ ہے جو لکھ دیا جاتا ہے۔''
اور عقل مند سے ہماری مراد وہ شخص ہے جو کاموں کو ان کی حقیقت کے مطابق سمجھتا ہے یعنی یا تو خود ذاتی طور پر سمجھتا ہے یا سمجھانے سے سمجھ جاتا ہے۔
دوسری خوبی حسن اخلاق بھی ضروری ہے کیونکہ بعض دفعہ عقل مند آدمی اشیاء کی ماہیت کا ادراک تو کرلیتا ہے لیکن جب اس پر غصہ 'شہوت' بخل یا بزدلی کا غلبہ ہوتا ہے تو وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور وہ اپنی صفات کے غلبہ سے عاجز ہونے کی وجہ سے جوبات اسے معلوم ہے اس کی بھی مخالفت کرتا ہے نیز وہ اپنے اخلاق کو بھی درست نہیں کرسکتا لہٰذا اس کی صحبت کا کوئی فائدہ نہیں۔
تیسری شرط کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ وہ فاسق جو اپنے فسق پر ڈٹا ہوا ہو اس کی صحبت کا بھی کوئی فائدہ نہیں کیونکہ جو آدمی اﷲ تعالیٰ سے ڈرتا ہے وہ گناہ کبیرہ پر اصرار نہیں کرتا۔ اور جو شخص اﷲ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا اس کا کچھ بھروسہ نہیں کہ کب نقصان پہنچا دے اور نہ اس کی صداقت کا یقین کیا جاتا ہے بلکہ اپنے خواہش کے تحت وہ کچھ بھی کرسکتا ہے ۔
چنانچہ ارشاد ربانی (عزوجل) ہے۔