Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
269 - 325
(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے فرمایا۔

''بے وقوف کے چہرے کو دیکھنا ایک گناہ ہے جو لکھ دیا جاتا ہے۔''

اور عقل مند سے ہماری مراد وہ شخص ہے جو کاموں کو ان کی حقیقت کے مطابق سمجھتا ہے یعنی یا تو خود ذاتی طور پر سمجھتا ہے یا سمجھانے سے سمجھ جاتا ہے۔

دوسری خوبی حسن اخلاق بھی ضروری ہے کیونکہ بعض دفعہ عقل مند آدمی اشیاء کی ماہیت کا ادراک تو کرلیتا ہے لیکن جب اس پر غصہ 'شہوت' بخل یا بزدلی کا غلبہ ہوتا ہے تو وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور وہ اپنی صفات کے غلبہ سے عاجز ہونے کی وجہ سے جوبات اسے معلوم ہے اس کی بھی مخالفت کرتا ہے نیز وہ اپنے اخلاق کو بھی درست نہیں کرسکتا لہٰذا اس کی صحبت کا کوئی فائدہ نہیں۔

تیسری شرط کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ وہ فاسق جو اپنے فسق پر ڈٹا ہوا ہو اس کی صحبت کا بھی کوئی فائدہ نہیں کیونکہ جو آدمی اﷲ تعالیٰ سے ڈرتا ہے وہ گناہ کبیرہ پر اصرار نہیں کرتا۔ اور جو شخص اﷲ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا اس کا کچھ بھروسہ نہیں کہ کب نقصان پہنچا دے اور نہ اس کی صداقت کا یقین کیا جاتا ہے بلکہ اپنے خواہش کے تحت وہ کچھ بھی کرسکتا ہے ۔

چنانچہ ارشاد ربانی (عزوجل) ہے۔
فَلَا یَصُدَّنَّکَ عَنْہَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِہَا وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُ فَتَرْدٰی ﴿۱۶﴾
ترجمہ کنز الایمان '' تو ہرگز تجھے اس کے ماننے سے وہ باز نہ رکھے جو اس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش کے پیچھے چلا پھر تو ہلاک ہوجائے''(پارہ نمبر۱۶' سوره طہ آیت ۱۶)

نیز ارشاد فرمایا۔
 وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنۡ ذِکْرِنَا وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُ
ترجمہ کنز الایمان '' اور اس کا کہا نہ مانو جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا ''(پارہ نمبر ۱۵' سوره کہف آیت ۲۸)

نیز ارشاد خداوندی ہے۔
فَاَعْرِضْ عَنۡ مَّنۡ تَوَلّٰی ۬ۙ عَنۡ ذِکْرِنَا وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا ﴿ؕ۲۹﴾
ترجمہ کنز الایمان '' تو تم اس سے منہ پھیر لو جو ہماری یاد سے پھیرا اور اس نے نہ چاہی مگردنیا کی زندگی ''

(پارہ نمبر۲۷' سوره النجم آیت ۲۹)

نیز ارشاد فرمایا :

ترجمہ کنز الایمان '' تو تم اس سے منہ پھیر لو جو ہماری یاد سے پھیرا اور اس نے نہ چاہی مگردنیا کی زندگی ''

(پارہ نمبر۲۷' سوره النجم آیت ۲۹)

نیز ارشاد فرمایا :
Flag Counter