Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
268 - 325
وَیَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصَّلِحٰتِ وَیَزِیْدُھُمْ مِنْ فَضْلِہٖ۔
ترجمہ کنز الایمان '' اور دعا قبول فرماتا ہے ان کی جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور انہیں اپنے فضل سے اور انعام دیتا ہے '' 

(پارہ نمبر۲۵ ' سوره شوریٰ آیت ۲۶)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اس آیت کی تفسیر غریب میں مروی ہے کہ اﷲ تعالیٰ ان کے دوستوں کے بارے میں ان کی سفارش قبول کریگا اور انہیں ان کے ساتھ جنت میں داخل کریگا ۔ کہا گیا ہے کہ جب اﷲ تعالیٰ کسی بندے کی بخشش فرماتا ہے تو اس کے دوستوں کے بارے میں اس کی شفاعت قبول کرتا ہے اسی لئے باعث بزرگوں نے باہم مجلس والفت اور میل جول کی ترغیب دی ہے اور علیحدگی اختیار کرنے کو ناپسند کیا ہے۔

تو ان فوائد میں سے ہر فائدے کے لئے کچھ شرائط ہیں جن کے بغیر وہ فائدہ حاصل نہیں ہوتا چنانچہ ہم انہیں تفصیل سے بیان کرتے ہیں ۔

دوستی کی شرائط :

خلاصہ یہ ہے کہ تم جس آدمی کی صحبت کو اختیار کرنا چاہتے ہو اس میں پانچ باتیں ہونی چاہیں ۔ (۱) وہ عقل مند ہو' (۲) اچھے اخلاق کا مالک ہو' (۳) فاسق نہ ہو (۴) ' بدعتی نہ ہو اور (۵) دنیا کی حرص نہ رکھتا ہو۔

جہاں تک عقل کا تعلق ہے تو وہ اصل مال ہے اور بیوقوف کی صحبت میں کوئی بھلائی نہیں کیونکہ اس کے نتیجے میں وحشت اور جدائی حاصل ہوتی ہے چاہے وہ کتنی زیادہ ہی کیوں نہ ہو۔

خلیفہ چہارم حضرت سیدنا علی المرتضیٰ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے فرمایا۔

'' کسی جاہل بھائی کی صحبت اختیار نہ کرو ۔ اس سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ کتنے ہی جاہل' عقل مند آدمی کے بھائی بن کر اسے برباد کردیتے ہیں کیونکہ انسان کو دوسرے انسان کے ذریعے پہچاناجاتا ہے اور اشیاء ایک دوسرے کے مشابہ ہوتی ہیں اور ایک دل جب دوسرے دل سے ملتا ہے تو اس کی عادتیں اختیار کرتا ہے۔''

اور یہ کیسے نہیں ہوگا جب کہ بیوقوف آدمی تمہیں نفع دینا اور تمہاری مدد کرنا چاہے تب بھی نہ واقفی کی وجہ سے نقصان پہنچاتا ہے ۔ اسی لئے کسی شاعر نے کہا میں عقل مند دشمن سے بے خوف ہوں البتہ ایسے دوست سے ڈرتا ہوں جو مجنون ہو عقل ایک ہی فن ہے اور اس کا راستہ مجھے معلوم ہے لیکن جنون کئی فنون کا مجموعہ ہے۔

اسی لئے کہا گیا ہے کہ بیوقوف سے تعلق منقطع کرنا اﷲ تعالیٰ کے قریب ہونا ہے چنانچہ حضرت سیدنا سفیان ثوری
Flag Counter