Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
267 - 325
دھوکے کے باب میں ہے۔

بہرحال وہ فسق جو اس طرح کا ہو کہ بندے اور خدا کے درمیان معاملہ ہو اس کے ہلکا ہونے پر یہ روایت دلالت کرتی ہے کہ ایک شراب نوش کو رسول ا کے سامنے کئی بار کوڑے مارے گئے لیکن وہ پھر شراب پی لیتا ایک صحابی نے کہا اﷲ تعالیٰ اس پر لعنت بھیجے یہ کس قدر شراب پیتا ہے  نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ''اپنے بھائی کے خلاف شیطان کے مدد گار نہ بنو۔'' (صحیح بخاری جلد ۲ ص ۱۰۰۲ کتاب الحدود) یا کوئی لفظ فرمائے مفہوم یہی ہے۔

اس روایت سے اشارہ ملتا ہے کہ سختی کرنے اور نفرت کا سلوک کرنے کی نسبت نرمی زیادہ بہتر ہے۔
ہم نشین کی صفات :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائيو ! اس موقعے پر سیدنا امام غزالی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) ارشاد فرماتے ہیں 

جان لو ! ہر آدمی دوستی اور صحبت کے قابل نہیں ہوتا اس لئے کہ نبی غیب داں رسولِ دوجہاں (صلي اللہ تعالي عليہ وسلم) نے فرمایا۔
اَلْمَرءُ عَلَی دِیْنِ اَخِیْہِ فَلْیَنْظُرْ اَحَدُکُمْ مَن یُخَالِّلُ۔
''انسان اپنے بھائی (دوست) کے طریقے پر چلتا ہے تو اسے دیکھنا چاہئے کہ وہ کس سے دوستی لگاتا ہے''

(مسند امام احمد بن حنبل جل ۲ ص ۳۰۲ مرویات ابوہریرہ)

نیز ان خصلتوں اور صفات کا امتیاز ضروری ہے جن کے باعث وہ کسی کی صحبت اختیار کرتا ہے اور صحبت سے حاصل ہونے والے فائدے کے لئے وہ خصلتیں شرط ہیں کیونکہ شرط وہ چیز ہوتی ہے جو مقصود تک پہنچنے کے لئے ضروری ہو لہٰذا صحبت سے یا تو دینی فوائد حاصل کرنا مقصود ہوتا ہے یا پھر دنیاوی فوائد ۔ جیسے مال یا مرتبہ وغیرہ یا اس کی ہمنشینی محض حصول اُنس کے لئے ہوتی ہے اور ہمیں ان باتوں سے غرض نہیں۔

اور جہاں تک دینی اغراض کا تعلق ہے تو اس میں بھی اغراض مختلف ہیں کیونکہ بعض اوقات علم و عمل کا استفادہ مقصود ہوتا ہے' یا ایسا مرتبہ حاصل کرنا ہوتا ہے تاکہ رزق کی تلاش میں وقت کو ضائع کرنے سے بچائے اسی طرح مشکل مسائل میں اس کی مدد مطلوب ہوتی ہے تاکہ حوادث اور مختلف حالات میں کام آئے۔ یا محض اس کی دعا سے برکت حاصل کرنا مقصود ہوتا ہے۔ اسی طرح آخرت میں اس کی شفاعت کا انتظار بھی ایک مقصد ہے بعض بزرگوں نے فرمایا کہ اپنے اسلامی بھائی زیادہ بناؤ کیونکہ قیامت کے دن ہر مومن شفاعت کریگاتو ہو سکتا ہے کہ تم اپنے کسی بھائی کی شفاعت میں داخل ہو۔

ارشاد خداوندی ہے۔
Flag Counter