وہ معافی کے زیادہ قریب ہوتا ہے لیکن چونکہ وہ دوسروں کی طرف متعدی ہوتا ہے لہٰذا شدید ہے یہ بھی اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ان لوگوں سے اعراض کیا جائے اور ان سے تعلق منقطع کیا جائے اور اگر محسوس ہو کہ اس شخص کو یا دوسروں کو کچھ تنبیہ ہوگی تو ان کو سلام کا جواب بھی نہ دے۔
تیسری قسم :
وہ شخص جو شراب نوشی یا ترک واجب یا کسی ممنوع کام کے ارتکاب کی وجہ سے فاسق ہو تو اس کا معاملہ سب سے ہلکا ہے لیکن گناہ کے ارتکاب کے وقت اگر اسے دیکھ لیا جائے تو اس طرح منع کرنا واجب ہے کہ وہ باز آجائے اگرچہ بقدرِ منصب مارنے یا توہین آمیز سلوک کے ذریعے ہو' کیونکہ برے کام سے روکنا ضروری ہے۔ اور جب وہ اس سے فارغ ہو جائے اور معلوم ہو کہ یہ اس کی عادت ہے اور وہ اس پر ڈٹا ہوا ہے تو اگر معلوم ہو کہ نصیحت کی وجہ سے وہ دوبارہ یہ کام نہیں کریگا تو نصیحت کرنا واجب ہے اور اگر یہ بات یقینی نہ ہو لیکن اس کی امید ہو تو نصیحت اور تنبیہ کرنا افضل ہے چاہے نرمی سے ہو یا سختی سے اور اس صورت میں جب وہ اس گناہ پر اصرار کرتا ہو اور یہ معلوم ہو کہ اسے نصیحت کچھ فائدہ نہیں دے گی۔ اس کے سلام کا جواب نہ دینا اور میل جول ترک کردینا غور طلب بات ہے۔ اور اس سلسلے میں علماء کرام کا عمل مختلف ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہ کام آدمی کی نیت کے بدلنے سے مختلف ہوتا ہے' اسی صورت میں کہا جاتا ہے کہ اعمال کا دار ومدار نیت پر ہے کیونکہ مخلوق کو شفقت و مہربانی کی نظر سے سے دیکھنے میں ایک قسم کی تواضع اور اس سے نفرت کرنے اور منہ پھرنے میں ایک قسم کی تنبیہ ہے اور اس سلسلے میں دل سے فتویٰ لیا جاتا ہے تو دیکھے اگر دل کی خواہش اور طبیعت کے تقاضے کی طرف زیادہ میلان ہے تو اس کے خلاف کرنا زیادہ بہتر ہے کیونکہ ہلکا سمجھنا بعض اوقات تکبر وغرور اور اپنے آپ کو بلند اور اچھا سمجھنے کی وجہ سے ہوتا ہے اور بعض اوقات نرمی کا سلوک منافقت اور کچھ فائدہ حاصل کرنے کی غرض سے اس کے دل کو نرم کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے یا اس بات کا خوف ہوتا ہے کہ ان لوگوں سے نفرت ہمارے مال اور مرتبے کو نقصان نہ پہنچائے یہ تمام باتیں شیطانی اشارے ہیں اور آخرت کے اعمال سے دور ۔۔۔۔۔۔
تو جو شخص دینی اعمال کی رغبت رکھتا ہے وہ ان باریک باتوں کی جستجو اور ان حالات کی حفاظت کے لئے کوشش کرتا ہے اور اس سلسلے میں دل ہی فتویٰ دیتا ہے۔ اور وہ اپنے اجتہاد میں کبھی صحیح بات تک پہنچتا ہے اور کبھی غلطی کرتا ہے کبھی جان بوجھ کر خواہش کی پیروی کرتا ہے اور کبھی اسے یہ دھوکہ ہوتا ہے کہ وہ اﷲ تعالیٰ کے لئے عمل کرتا ہے اور آخرت کے راستے پر چلتا ہے ان باریک باتوں کا بیان ''احیاء العلوم'' میں ہلاک کرنے والی باتوں کے بیان ہلاک کرنے والی باتوں کے بیان میں