جس شخص کا عقیدہ خراب نہ ہو بلکہ وہ اپنے فعل اور عمل کی وجہ سے گناہ گار ہو اب اگر اس کی وجہ سے دوسروں کو بھی اذیت پہنچتی ہے جیسے ظلم کرنا' کسی کا مال چھیننا جھوٹی گواہی' غیبت' لوگوں کو لڑانا' چغل خوری وغیرہ۔ یا ایسا کام جو صرف اس تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس سے دوسروں کو بھی تکلیف پہنچتی ہے تو اس کی دو صورتیں ہیں ۔ ایک یہ کہ وہ دوسروں کو بھی فساد کی دعوت دیتا ہے جیسے ایسا شراب خور جو مردوں اور عورتوں کو جمع کرکے فسادی لوگوں کے لئے شراب نوشی اور فساد کے اسباب مہیا کرتا ہے یا یہ کہ دوسروں کو اس عمل کی طرف نہیں بلاتا جیسے ایک آدمی شراب پیتا ہے اور زنا کا ارتکاب کرتا ہے لیکن دوسروں کو اس برائی کی طرف نہیں بلاتا اب اس کا گناہ یا تو صغیرہ ہوگا یا کبیرہ پھر دونوں صورتوں میں یاوہ اس پر ڈھٹائی اختیار کریگایا نہیں تو ان تقسیمات سے تین قسمیں حاصل ہوتی ہیں۔ پہلی قسم : یہ سب سے زیادہ سخت ہے اور یہ وہ صورت ہے جس سے لوگوں کو نقصان پہنچتا ہے جیسے ظلم' غصب' جھوٹی گواہی غیبت اور چغلی ۔۔۔۔۔۔ ایسے لوگوں سے پرہیز کرنا ان سے میل جول کرنے اور ان کے ساتھ معاملات کرنے سے دور رہنا بہت بہتر ہے کیونکہ اس میں مخلوق کو اذیت پہنچانے کے اعتبار سے گناہ سخت ہے۔ پھر ان سے بعض لوگ وہ ہیں جو خون ریزی کے ذریعے ظلم کرتے ہیں اور بعض وہ ہیں جو مالی نقصان کے ذریعے ظلم کرتے ہیں اور بعض وہ ہیں جو عزتیں لوٹتے ہیں' تو ان میں سے بعض' دوسرے بعض کی نسبت زیادہ سخت ہیں لہٰذا ان کے ساتھ توہین آمیز سلوک کرنے اور ان سے منہ پھیرنے کی نسبت بہت زیادہ تاکید ہے اور بعض اوقات اس قسم کے رویہ سے یہ توقع ہوتی ہے کہ وہ باز آجائیں یا دوسرے لوگ فائدہ اٹھائیں تو اس صورت میں ان سے اعراض کی تاکید زیادہ ہوگی۔ دوسری قسم : وہ فساد برپا کرنے والا جو فساد کے اسباب مہیا کرتا ہے اور مخلوق کے لئے اس (فساد) کے طریقوں کو آسان کرتا ہے یہ شخص لوگوں کو دنیاوی اعتبار سے اذیت نہیں پہنچاتا لیکن اپنے اس عمل کی وجہ سے ان کا دین چھینتا ہے اگر وہ ان لوگوں کی مرضی کے مطابق ہے تو یہ پہلی قسم کے قریب ہے لیکن اس سے کم درجہ میں ہے کیونکہ جو گناہ بندے اور اﷲ تعالیٰ کے درمیان ہو