لیکن وہ بدعتی جو لوگوں کو بدعت کی دعوت دیتا ہے اس کا خیال یہ ہے کہ وہ حق کی طرف بلاتا ہے لہٰذا یہ شخص لوگوں کی گمراہی کا باعث بنتا ہے اس وجہ سے اس کا نقصان متعدی ہے۔ لہٰذا اس سے بغض وعداوت کا اظہار' اس سے قطع تعلق' اس کی تحقیر اور اس کی بدعت کی برائی بیان کرنا نیز اس سے لوگوں کو نفرت دلانا نہایت اہم مستحب ہے۔ اگر وہ تنہائی میں سلام کرے تو جواب دینے میں کوئی حرج نہیں اور اگر معلوم ہو کہ اس سے اعراض کرنے اور جواب نہ دینے کی وجہ سے وہ اس بدعت کو برا سمجھے گا اور اس کے باز آنے کے لئے یہ بات موثر ہوگی تو جواب نہ دینا بہتر ہے کیونکہ سلام کا جواب اگرچہ واجب ہے لیکن کسی ایسی چھوٹی غرض کی وجہ سے بھی اسے چھوڑا جاسکتا ہے جس میں کوئی بھلائی ہو'جیسے جب آدمی حمام میں ہو یا قضائے حاجت میں ہو تو سلام کا جواب ساقط ہوجاتا ہے۔ اور اس شخص کو تنبیہ کرنا ان باتوں سے زیادہ اہم ہے۔ اور اگر وہ کسی جماعت میں ہو تو جواب نہ دینا بہتر ہے تاکہ لوگوں کو اس سے نفرت پید ا ہو اور ان کی نگاہوں میں اس کی بدعت کی گمراہی ظاہر ہو۔ اسی طرح اس پر احسان کرنے اور اس کی مدد کرنے سے بھی رکنا چاہئے خاص طور پر جب یہ بات لوگوں کے سامنے ظاہر ہو۔ نبی(صلي اللہ تعالي عليہ وسلم) نے فرمایا:۔
''جو شخص کسی بدعتی کو جھڑکتا ہے اﷲ تعالیٰ اس کے دل کو امن و ایمان سے بھر دیتا ہے۔'' (الاسرار المرفوعۃ ص ۲۲۳ حدیث ۸۸۰)
اور جو آدمی کسی بدعتی کی توہین کرتا ہے اﷲ تعالیٰ اسے اس دن امن میں رکھے گا جو بہت گھبراہٹ کا دن ہوگا۔ اور جو آدمی اس کے لئے نرمی اختیار کرتا ہے' اس کی عزت کرتا ہے یا خندہ پیشانی سے ملتا ہے اس نے نبی اکرم (صلي اللہ تعالي عليہ وسلم) کے دین کی توہین کی۔
(کتاب الموضوعات لابن جوزی جلد اول ص ۲۷۰ کتاب ذم البدعۃ)