| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
جب وہ تمہیں '' السلام علیک'' کہے تو صرف ''وعلیک'' کہہ دو اور بہتر یہی ہے کہ ان کے ساتھ میل جول اور کھانا پینانہ اپناؤ خوش طبعی اور کھلے بندوں بات چیت جس طرح دوستوں کے ساتھ کی جاتی ہے' ان کے ساتھ اس طرح کارویہ اختیار کرنا بہت زیادہ مکروہ ہے اور قریب ہے کہ وہ حرام تک پہنچ جائے۔ اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:۔
لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوۡنَ بِاللہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوۡنَ مَنْ حَآدَّ اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ لَوْ کَانُوۡۤا اٰبَآءَہُمْ اَوْ اَبْنَآءَہُمْ اَوْ اِخْوَانَہُمْ اَوْ عَشِیۡرَتَہُمْ ؕ
ترجمہ کنز الایمان ''تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اﷲ (عزوجل) اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اﷲ (عزوجل) اور اس کے رسول ا سے مخالفت کی اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں''(پارہ نمبر۲۸' سوره مجادلہ آیت ۲۲) اور حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔
اَلْمُسْلِمُ وَالْمُشْرِکُ لَاتَتَرأَیَ نَارَاھُمَا۔
''مسلمان اور مشرک ایک دوسرے کی آگ نہ دیکھیں (مطلب یہ ہے کہ ایک دوسرے سے دور رہیں)'' (سنن ابی داؤد جلد اول ص ۳۵۶ کتاب الجہاد) اور ارشاد خداوندی ہے۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا عَدُوِّیۡ وَ عَدُوَّکُمْ اَوْلِیَآءَ
ترجمہ کنز الایمان '' اے ایمان والو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ''(پارہ ۲۸ ' سوره ممتحنۃ' آیت ۱)
بدعتی مبلغ :
وہ بدعتی جو بدعت کی طرف بلاتا ہے اگر اس بدعت کی وجہ سے کفر لازم آتا ہے تو اس شخص کا معاملہ ذمی سے بھی زیادہ سخت ہے کیونکہ یہ شخص نہ تو جزیہ دینے کا اقرار کرتا ہے اور نہ اس کے لئے عقد ذمہ کا لحاظ ہوتا ہے اور اس بدعت کی وجہ سے کفر لازم نہیں آتا تو اﷲ تعالیٰ کے ہاں اس شخص کا معاملہ یقینا کافر کے معاملہ سے ہلکا ہے لیکن کافر کے مقابلے میں اس کا رد زیادہ کیا جائے کیونکہ کافر کا شر آگے نہیں بڑھتا اس لئے کہ مسلمانوں کو علم ہے کہ وہ کافر ہے لہٰذا وہ اس کی بات کی طرف متوجہ نہیں ہوتے وہ نہ تو اسلام کا دعویٰ کرتا ہے اور نہ ہی سچے عقیدے کا۔