| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
لوگ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کے زمانے میں شراب پیتے تھے اور بے حیائی کے کام کرتے تھے ان سے تعلقات بالکل ختم نہیں کئے جاتے تھے بلکہ ان میں سے بعض کو سخت تنبیہ کی جاتی اور اس سے نفرت کا اظہار کیا جاتا اور بعض سے نہ اعراض کیا جاتا اور نہ انہیں کچھ کہا جاتا اور بعض کو رحمت بھری نگاہ سے دیکھا جاتا اور ان کا بائیکاٹ کوئی فائدہ نہ دیتا۔ یہ دینی باریک باتیں ہیں جن میں آخرت کی طرف جانے والوں کے راستے مختلف ہیں اور ہر ایک کا عمل اس کی حالت اور وقت کے تقاضے کے مطابق ہوتا ہے' اور ان امور میں حالات کے تقاضے کے تحت یہ مکروہ بھی ہوتے ہیں اور مستحب بھی اور ان باتوں کا تعلق فضائل کے درجہ میں ہے حرام یا واجب سے نہیں کیوں کہ انسان اﷲ تعالیٰ کی اصل معرفت اور اصلی محبت کا مکلف ہے اور یہ محبوب سے غیر کی طرف متجاوز نہیں ہوتی۔ البتہ محبت کی زیادتی اور غلبہ ہو تو وہ دوسروں تک بھی پہنچتی ہے اور یہ صورت عوام کے لئے فتویٰ اور ظاہری تکلیف کے تحت نہیں آتی۔
قابلِ نفرت لوگوں کے مراتب اور ان سے معاملہ کی کیفیت:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! امام غزالی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) اس فصل میں قابل نفرت لوگوں کی اقسام اور ان سے معاملہ کرنے کی کیفیت بیان فرما رہے ہیں چنانچہ ارشاد فرماتے ہیں اگر تم کہو کہ عملی طور پر بغض وعداوت ظاہر کرنا اگرچہ واجب نہیں لیکن اس میں توکوئی شک نہیں کہ مستحب ہے اور نافرمان اور فاسق لوگوں کے مراتب مختلف ہیں تو ان سے معاملات کی کیفیت کیاہوگی اور کیا ان سب سے ایک قسم کا طریقہ اختیار کیا جائے یا نہ ؟ تو جان لو کہ اﷲ تعالیٰ کے حکم کے خلاف کرنے والوں کی دو اقسام ہیں ۔یا تو اپنے عقیدے میں مخالفت کرتا ہے یا عمل میں ۔ عقیدے میں مخالفت کرنے والا یا تو بدعتی ہوگا یا کافر' اور بدعتی یا تو بدعت کی طرف بلاتا بھی ہے یا خاموش رہتا ہے اگر خاموش رہتا ہے تو عاجز ہونے کی وجہ سے یا اپنے اختیار سے ' تو یوں اعتقاد میں فساد کی تین قسمیں ہوئیں۔
اعتقاد میں فساد کی اقسام
کافر : اگر کافر محارب (لڑنے والا ہو) تو وہ قتل یا غلام بنائے جانے کا مستحق ہے اور ان دو باتوں سے بڑھ کر توہین آمیز سلوک نہیں ہوتا اور اگر ذمی ہے تو اسے صرف اس طرح تکلیف دینا جائز ہے کہ اس سے منہ پھیر لیا جائے اور اسے حقارت کی نظر سے دیکھا جائے مثلاً اسے تنگ راستے پر چلنے پر مجبور کردیا جائے نیز سلام میں ابتداء کو ترک کردیا جائے اور