Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
261 - 325
گناہ کرتا ہے جو دوسروں تک برائی پھیلنے کا سبب بنتے ہیں۔ لیکن جو آدمی ایسا گناہ کرے جو اس کی اپنی ذات تک محدود ہو تو ان (اسلاف) میں سے بعض نے ایسے تمام گناہ گاروں کو نظر رحمت سے دیکھا ہے لیکن ان میں سے بعض نے ان پر سخت اعتراض کیا اور ان سے قطع تعلق فرمایا۔

حضرت سیدنا امام احمد بن حنبل (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) تو اکابر کو بھی چھوٹی سی بات پر چھوڑ دیتے تھے حتی کہ مشہور بزرگ حضرت سیدنا یحییٰ بن معین (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے ایک مرتبہ فرمایا کہ میں کسی سے کچھ نہیں مانگتا لیکن جب بادشاہ میرے پاس کچھ بھیجے تو میں لے لیتا ہوں تو آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے انہیں چھوڑ دیا۔ نیزحضرت سیدنا حارث محاسبی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کو معتزلہ کے رد میں کتاب تصنیف کرنے پر چھوڑ دیا اسی طرح انہوں نے حضرت سیدنا ابو ثور (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) سے ملنا جلنا ترک کردیا کیونکہ انہوں نے  نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی کا مفہوم از خود بیان کیا تھا۔
اِنَّ اﷲَ خَلَقَ اٰدَمَ عَلَی صُوْرَتِہٖ۔
''بے شک اﷲ (عزوجل) نے حضرت آدم علیہ السلام کو ( اپنی یا) ان کی صورت پر پیدا فرمایا''(صحیح مسلم جلد ۲ ص ۳۸۰ کتاب الجنۃ)

تو یہ ایسا معاملہ ہے جو نیت کے بدلنے سے بدلتا رہتا ہے اور نیت ' حالات کے بدلنے سے بدلتی ہے اگر دل میں یہ بات غالب ہو کہ لوگوں کی مجبوری اور عاجزی کو دیکھا جائے نیز یہ کہ جو کچھ ان کے مقدر میں ہے وہ اس کے لئے مسخر کئے گئے ہیں تو یہ بات ان سے دشمنی اور بغض کو کم کردے گی اور اس کی بھی دلیل ہے۔ لیکن بعض اوقات اس سے مداہنت (منافقت) پیدا ہوجاتی ہے اور عام طور پر گناہوں سے چشم پوشی کا باعث منافقت اور دلوں کی رعایت ہوتی ہے' اور یہ ڈر ہوتا ہے کہ جواباًگناہگار بھی ان سے نفرت کرنے لگیں گے ۔ اور بعض اوقات شیطان کسی غبی بیوقوف آدمی پر معاملہ مشتبہ کردیتا ہے تو وہ اسے نظرِ رحمت سے دیکھنے لگتا ہے تو اس کے امتحان کا طریقہ یہ ہے کہ اگر وہ گناہگار اس کا کوئی نقصان کردے تو کیا اب اس پر غضب ناک ہوتا ہے یا نہیں اسے تقدیر کا لکھا سمجھ کر قبول کرلیتا ہے ۔اور اگر اپنی حق تلفی پر غصہ آئے لیکن اﷲ تعالیٰ کے حق پر ڈاکہ ڈالا جائے تو شفقت و رحم کرنے لگے تو ایسا شخص منافق ہے اور شیطان کے جال میں پھنسا ہوا ہے۔

اگر تم کہو کہ نفرت کے اظہار میں کم ازکم درجہ قطع تعلق اور اعراض کرنا ہے اور اس سے دوستی اور اس کی مدد کو چھوڑ دیناہے تو کیا یہ امور واجب ہیں اور ایسا نہ کرنے سے بندہ گناہ گار ہوتا ہے ؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! سیدنا امام غزالی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)فرماتے ہیں

میں کہتا ہوں کہ ظاہری علم کے مطابق انسان اس عمل کا مکلف نہیں اور نہ یہ اس پر واجب ہے ہم جانتے ہیں کہ جو
Flag Counter