Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
260 - 325
منع نہیں ہے بلکہ یہ بہت اچھا ہے جب کہ اس کا گناہ تمہاری حق تلفی ہو یا تمہارے کسی قریبی کو نقصان پہنچایا ہو۔ چنانچہ اس سلسلے میں قرآن پاک کی آیت نازل ہوئی۔

ارشاد ربانی (عزوجل) ہے۔
وَ لَا یَاۡتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنۡکُمْ وَ السَّعَۃِ اَنۡ یُّؤْتُوۡۤا اُولِی الْقُرْبٰی وَ الْمَسٰکِیۡنَ وَالْمُہٰجِرِیۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ ۪ۖ وَلْیَعْفُوۡا وَلْیَصْفَحُوۡا ؕ اَلَا تُحِبُّوۡنَ اَنۡ یَّغْفِرَ اللہُ لَکُمْ ؕ وَاللہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۲۲﴾
ترجمہ کنز الایمان ''اور قسم نہ کھائیں وہ جو تم میں فضیلت والے اور گنجائش والے ہیں قرابت والوں اور مسکینوں اور اﷲ (عزوجل) 

کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے کی اور چاہئے کہ معاف کریں اور درگزر کریں کیا تم اسے دوست نہیں رکھتے کہ اﷲ 

(عزوجل) تمہاری بخشش کرے اور اﷲ (عزوجل) بخشش والا مہربان ہے''(پارہ نمبر ۱۸' سوره نور آیت۲۲)

یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب واقعہ افک (ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہا)پر جھوٹی تہمت لگائی گئی تھی اس میں حضرت سیدنا مسطح بن اثاثہ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے منافقین کی باتوں میں آکر غلطی سے حصہ لیا اور گفتگو کی تو حضرت صدیق اکبر (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے قسم کھائی کہ آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) ان سے رفاقت و نرمی ختم کردیں گے۔ (صحیح بخاری جلد ۲ ص ۵۹۶ کتاب المغازی)

اور آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) مال کے ذریعے اس کی مدد کیا کرتے تھے تو مسطح کے ایک بہت بڑے جرم کے باوجود یہ آیت نازل ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سے بڑا جرم کیا ہوسکتا ہے کہ حرمِ رسول ا کے سلسلے میں زبان درازی کی جائے اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ عفیفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے بارے میں کوئی شخص زبان کھولے لیکن چوں کہ اس واقعہ کے ذریعے گویا حضرت صدیق اکبر (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کو نقصان پہنچایا گیا تھا اور ظالموں کو معاف کردینا اور برائی کرنے والوں سے احسان کا سلوک کرنا صدیقین کے اخلاق کا حصہ ہے۔

چنانچہ جو آدمی تم پر ظلم کرے اس سے احسان کرنا اچھی بات ہے لیکن جو آدمی دوسروں پر ظلم کرے اور اس کے ذریعے اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی کرے اس سے احسان کا سلوک اچھا کام نہیں کیونکہ ظالم سے اچھا سلوک مظلوم کے ساتھ برے سلوک کی طرح ہے جب کہ مظلوم کے حق کی رعایت کرنا زیادہ بہتر ہے اور ظالم سے بچاتے ہوئے اس کے دل کی ڈہارس بندھانا اﷲ تعالیٰ کے ہاں ظالم کے دل کو مضبوط کرنے سے بہتر ہے لیکن جب تم خود مظلوم ہو تو تمہارے حق میں بہتر یہ ہے کہ اپنا حق معاف کردو اور درگزر کرو۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ہمارے اسلاف کے نافرمان لوگوں سے اظہار نفرت کے مختلف طریقے تھے لیکن اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ ظالموں اور بدعتیوں سے نفرت کا اظہار کیا جائے اسی طرح ہر اس شخص سے بھی نفرت کی جائے جو ایسے
Flag Counter