Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
259 - 325
موافقت کا غلبہ ہو۔ تو جو آدمی اﷲ تعالیٰ کی اطاعت بھی کرتا ہے اور نافرمانی بھی' اس کے ساتھ اسی طرح کا معاملہ ہونا چاہئے کبھی اس سے خوشی کا اور کبھی ناراضگی کا اظہار کرے۔

اگر تم کہو کہ نفرت کا اظہار کیسے ممکن ہوگا؟ تو میں کہتا ہوں زبانی طور پر اس کی صورت یہ ہے کہ کسی وقت اس کے ساتھ گفتگو کرنے سے رک جائے اور کسی وقت اس پر سختی کرے اور سخت کلام کرے اور عملاً اس کی صورت یہ ہے کہ کسی وقت اس کی مدد سے ہاتھ کھینچ لے لیکن ایسا وہی کرے جس کے کرنے سے سامنے والے کے سُدھرنے کا امکان ہو اور ان میں سے بعض باتیں بعض دوسری باتوں کے مقابلے میں سخت ہیں اور یہ امور اس حساب سے انجام پائیں جس قدر اس شخص میں فسق وفجور اور نافرمانی پائی جاتی ہے۔ 

اور اگر ایسی لغزش ہو جس کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ اس پر نادم ہے اور اصرار نہیں کرتا تو اس پر پردہ ڈالنا اور چشم پوشی کرنا بہتر ہے۔ لیکن جس صغیرہ یا کبیرہ گناہ پر وہ ڈٹ جائے تو اگر وہ شخص ایسا ہو کہ تمہارے اور اس کے درمیان پکی دوستی اور صحبت ہو تو اس کا الگ حکم ہے جو عنقریب آئے گا۔ اور اس سلسلے میں علماء کا اختلاف ہے اور اگر تمہارے درمیان دوستی پکی نہ ہو تو نفرت کا اظہار ضروری ہے یعنی یا تو اس سے منہ پھیر لیں اور دور رہیں اور اس کی طرف توجہ کم کریں یا اس کو ہلکا سمجھیں اور سخت کلامی سے پیش آئیں اور منہ پھیر نے کی نسبت یہ بات زیادہ سخت ہے اور یہ گناہ کی سختی اور نرمی کے اعتبار سے ہے۔ 

اسی طرح فعل کے بھی دو رتبے ہیں ایک یہ کہ اس کی مدد اور دوستی وغیرہ ختم کردیں اور یہ سب سے کم درجہ ہے اور دوسرا یہ ہے کہ اس کے برے مقاصد کو خراب کرنے کی کوشش کریں جیسے نفرت کرنے والے دشمن کرتے ہیں اور یہ ضروری ہے لیکن یہ اسی صورت میں ہو جب اس کے لئے گناہ کا راستہ خراب ہو جائے اور اگر اس کا کوئی اثر نہ ہو تو چھوڑ دیں۔ 

اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص شراب نوشی کرتا ہے اور اس نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام دیا ہے کہ اگر اس سے نکاح ہوجائے تو لوگ اس کے مال' حسن اور مرتبے پر رشک کریں لیکن یہ نکاح اسے شراب نوشی سے نہیں روک سکتا اور نہ ہی اسے اس کی ترغیب دیتا ہے اب اگر تم اس حالت میں ہو کہ اس کی مدد کرکے اس کی غرض کو پورا کرسکتے ہو اور اس کی غرض کو ختم کرنے کی طاقت بھی رکھتے ہو تو اب اسے پریشان کرنا ضروری نہیں لیکن جہاں تک اس کی مدد کا تعلق ہے تو اگر تم اس کے گناہ کی وجہ سے غصے میں آکر مدد کرنا چھوڑ دو تو کوئی حرج نہیں لیکن ترکِ مدد واجب نہیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ تمہاری نیت یہ ہو کہ اس کی مدد کرکے اس کے لئے نرمی کا سلوک کیا جائے اور شفقت ظاہر کی جائے تاکہ وہ تمہاری دوستی کا اعتقاد رکھے اور تمہاری نصیحت کو قبول کرے۔ تو یہ ا چھی بات ہے۔

اور اگر تمہارے لئے یہ بات ظاہر نہ ہو لیکن تم محض اس کے مسلمان ہونے کی وجہ سے اس کے کسی کام پر مدد کرو تو یہ